🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : التشديد في الدين
باب: قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 77 (1079)، (تحفة الأشراف: 14981)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440، 475)، سنن الدارمی/البیوع 52 (2633) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عمر بن أبي سلمة القرشي
Newعمر بن أبي سلمة القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق يخطئ
👤←👥سعد بن إبراهيم القرشي، أبو إسحاق، أبو إبراهيم
Newسعد بن إبراهيم القرشي ← عمر بن أبي سلمة القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← سعد بن إبراهيم القرشي
ثقة حجة
👤←👥محمد بن عثمان القرشي، أبو مروان
Newمحمد بن عثمان القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2413
نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
المعجم الصغير للطبراني
365
نفس المؤمن معلقة ما كان عليه دين
بلوغ المرام
433
‏‏‏‏نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
جامع الترمذي
1078
نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
جامع الترمذي
1079
نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2413 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2413
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لٹکنے کا مطلب ہے کہ مرنےکے بعد بھی اس پرادائیگی کی ذمے دار باقی رہتی ہے اور وہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا، اس لیے اسے پریشانی رہتی ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی۔

(2)
مالی حقوق میں نیابت درست ہے یعنی اگرکسی کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے توقرض وغیرہ ادا ہوجاتا ہے اور وہ اللہ کے ہاں بھی اس ذمے داری سے سبک دوش ہو جاتا ہے۔

(3)
فوت ہونے والے کا ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اس کا قرض ادا کرنا چاہیے۔
اگر ترکہ کم ہو تو وارث اپنے پاس سےقرض ادا کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2413]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 433
حقوق العباد مرنے والے سے معاف نہیں ہوتے
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح قرض کے ساتھ اس وقت تک معلق (لٹکی) رہتی ہے جب تک اسے ادا نہیں کر دیا جاتا . . . [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 433]
لغوی تشریح:
«مُعَلَّقةٌ» ‏‏‏‏ «تَعٰلِيق» (باب تفعيل) سے ماخوذ ہے، یعنی جن نعمتوں اور انعامات کا وہ مستحق ہوتا ہے وہ اس کے لیے بند کر دی جاتی ہیں، نہ اس کی نجات کا فرمان جاری کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہلاکت کا۔
«بِدَيُنِهِ» ‏‏‏‏ دالپر فتحہ ہے۔ قرض اور ہر وہ چیز جس کا ادا کرنا مرنے والے کے ذمے واجب ہو۔
«‏‏‏‏حَتّٰي يُقْضٰي عَنْهُ» صیغہ مجہول ہے، یعنی تاوقتیکہ وہ قرض اس کی جانب سے ادا کر دیا جائے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد مرنے والے سے معاف نہیں ہوتے تاوقتیکہ جس کا حق تھا وہ اسے ازخود معاف نہ کر دے یا کوئی دوسرا اس کی طرف سے ادا نہ کر دے۔ اسی طرح قرض کا بار اور بوجھ میت کے ذمے رہتا ہے جب تک کہ اس کی طرف سے ادا نہ ہو جائے، خواہ کوئی رشتہ ادا کرے یا احباب و رفقاء میں سے کوئی شخص یا ریاست اپنے شہری کی حیثیت سے اس کا قرض ادا کر دے۔ اس سے ذرا اس بات کا اندازہ لگائیں کہ یہ مال تو مرنے والے نے مالک کی رضا مندی سے واپسی کی نیت سے لیا تھا، جب تک اس کی ادائیگی نہیں ہوتی میت اسی قرض سے معلق رہتی ہے اور جن لوگوں نے دوسروں کی کوئی چیز یا مال فریب، دھوکے سے یا ڈاکا ڈال کر حاصل کیا ہو گا، ان کا کیا حشر ہو گا؟
➋ اگر مرنے والے نے اپنے پیچھے اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس سے اس کا قرض ادا ہو سکتا ہو تو وارث سب سے پہلے اس کے مال میں سے قرض کی ادائیگی کے پاپند ہیں۔ اگر وہ مفلس و غریب تھا کہ ترکے میں ادائیگی قرض کے بقدر نہیں چھوڑا تو پھر اسلامی ریاست اس کے قرض ادا کرنے کی پاپند ہو گی۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا حق ہے اور جو کوئی قرض چھوڑ جائے، اس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ [صحيح البخاري الاسقراض، حديث: 2398۔ وصحيح مسلم، الفرائض، حديث 1619]
اور کبھی یوں فرمایا: اس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہے۔ [سنن ابن ماجه، ابواب الفرائض، حديث 2738]
اس سے معلوم ہوا کہ قرض کی معافی نہیں کیونکہ یہ حقوق العباد سے متعلق ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 433]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1079
مومن کی جان قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ وہ ادا نہ ہو جائے۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ۱؎ ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1079]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کا معاملہ موقوف رہتا ہے اس کی نجات یا ہلاکت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے۔

2؎:
یہ خاص ہے اس شخص کے ساتھ جس کے پاس اتنامال ہو جس سے وہ قرض ادا کرسکے رہا وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو اوروہ اس حال میں مرا ہوکہ قرض کی ادائیگی کا اس کا پختہ ارادہ رہا ہو توایسے شخص کے بارے میں حدیث میں واردہے کہ اس کا قرض اللہ تعالیٰ اداکردے گا۔

نوٹ:
(اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1079]