🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : من أعتق عبدا وله مال
باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2529
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ"، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا غلام آزاد کیا جس کے پاس کچھ مال تھا تو غلام کا مال بھی اس غلام کا ہے الا یہ کہ مالک اس کے مال کی شرط لگا لے تو پھر اسے مل جائے گا۔ (حدیث کے دوسرے راوی) ابن لہیعہ نے (اپنی روایت میں) «إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» کی بجائے «إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ (جبکہ مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/العتق 11 (3962)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 17 (2379)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصري
Newعبيد الله بن أبي جعفر المصري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة حافظ جليل
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← محمد بن يحيى الذهلي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3962
من أعتق عبدا وله مال فمال العبد له إلا أن يشترطه السيد
سنن ابن ماجه
2529
من أعتق عبدا وله مال فمال العبد له إلا أن يشترط السيد ماله فيكون له
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2529 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2529
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام طور پرغلام کے تصرف میں جو مال ہوتا ہے وہ آقا کا ہی ہوتا ہے جو وہ اسے اس کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دیتا ہے۔
اس صورت میں جب غلام آزاد ہو گا تو مالک کا جومال اس تصرف میں تھا وہ مالک ہی لے گا۔

(2)
بعض اوقات ایسا ہی ہو سکتا ہے آقا غلام کو اجازت دے کہ وہ محنت مزدوری کرکے جتنی رقم حاصل ہو اس سے اتنی رقم مجھے دے دیا کروں باقی جس طرح چاہو تم استعمال کرو اس صورت میں غلام کی جمع کی بچت غلام کی ملکیت ہوگئی۔
اور اگرغلام آزاد کیا گیا تو یہ رقم وہ اپنے پاس رکھے گا آقا کو واپس نہیں کرے گا۔

(3)
اگر آقا مرتے وقت یوں کہے کہ میں تجھے اس شرط پرآزاد کرتا ہوں کہ تمہارے پاس جو مال ہے وہ مجھے دو گے تو وہ ادا کرنا پڑے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2529]

Sunan Ibn Majah Hadith 2529 in Urdu