🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه
باب: کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَأَبَا بَكْرَةَ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 4326)، صحیح مسلم/الایمان 27 (63)، سنن ابی داود/الأدب 119 (5113)، (تحفة الأشراف: 3902)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/169، 174، 179، 5/38، 46)، سنن الدارمی/السیر 83 (2572)، الفرائض 2 (2902) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق
Newسعد بن أبي وقاص الزهري ← نفيع بن مسروح الثقفي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4327
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام
صحيح البخاري
6766
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
صحيح مسلم
220
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
سنن ابن ماجه
2610
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2610 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2610
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نسبت کے ثبوت پربہت معاملات کاا انحصار ہےمثلاً:

(ا)
محرم نامحرم کی پہچان۔

(ب)
وارثت کی تقسیم وغیرہ اس لیے شریعت اسلامیہ میں نسب کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

(2)
آزاد کرنے اور ہونے والے کے درمیان جو تعلق قائم ہوتا ہے اسےولاء کہتے ہیں اس پر بعض شریعی مسائل کا انحصار ہے مثلاً:
نسبی وارثوں کی غیر موجوگی میں وراثت کی تقسم وغیرہ۔

(3)
نسب اور ولاء کا جو تعلق قدرتی طور پرقائم ہو گیا ہے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اس لیے شریعت میں منہ بولے بیٹے یا بھائی وغیرہ جیسے مصنوعی رشتوں کی قانونی اورشریعی حیثیت نہیں۔

(4)
باپ کےسوا کسی اور کو والد قراردینا حرام ہے البتہ احترام کے طورپرکسی کوچچا کہہ دینا پیار سے کسی کو بیٹا کہہ دینا اس میں شامل نہیں۔
حرمت اس وقت ہےجب اس مصنوعی رشتوں کو اصلی رشتے کا مقام دینے کی کوشش کی جائے۔

(5)
آزاد غلام کے لیے جائز نہیں کہ کسی اور قبیلے سے تعلق قائم کرنے کےلیے اس قبیلے کے کسی فرد کو اپنا آزاد کرنے والا قرار دے۔
اس کی وجہ سے بعض شرعی معاملات میں مشکل پیش آ سکتی ہےاس کے علاوہ یہ ایک بڑی احسان فراموشی بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2610]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 4327
باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنا کبیرہ گناہ ہے
«. . . سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ . . .»
. . . ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي: 4327]
لغوی توضیح:
«وَعَــاهُ» اسے یاد کر لیا۔
«قَلْبـِيْ» میرے دل نے۔
فہم الحدیث:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جان بوجھ کر اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ اور اگر کوئی کسی دوسرے ملک میں نیشنیلٹی حاصل کرنے کی غرض سے بھی ایسا کرتا ہے (جیسا کہ آج کل کیا جاتا ہے) تو وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کو بھی اپنے ناموں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے اصلی باپوں کے ناموں سے ہی پکارنا چاہیے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» [الاحزاب: 5] لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک پورا انصاف ہے۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 42]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4327
4327. حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد ؓ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا۔ نیز میں نے ابو بکرہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے۔ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی نے کہا: میں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ ؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو تمہیں کافی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں کیونکہ ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص ؓ) تو وہ ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4327]
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا یہ ہشام کی تعلیق مجھے موصولاً نہیں ملی اور اس کے سند کے بیان کرنے سے امام بخار ی ؒ کی غرض یہ ہے کہ اگلی روایت کی تفصیل ہوجائے، اس میں مجملًا یہ مذکور تھا کہ کئی آدمیوں کے ساتھ قلعہ پر چڑھے تھے، اس میں بیان ہے کہ وہ تیس آدمی تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4327]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4327
4327. حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد ؓ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا۔ نیز میں نے ابو بکرہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے۔ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی نے کہا: میں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ ؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو تمہیں کافی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں کیونکہ ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص ؓ) تو وہ ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4327]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب طائف کا محاصرہ کیا تو قلعے کے اندر ہی چند آدمیوں نے مشورہ کیا کہ ہم کیوں نہ مسلمان ہوجائیں، لیکن قلعے سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہ بنتی تھی۔
وہ دیوار پر چڑھے اور بکرہ، یعنی سیڑھی کے ذریعے قلعے سے باہرنکلے۔
یہ تحریک جس شخص نے برپا کی تھی وہ ابوبکرہ کے نام سے مشہور ہوئے۔
ان کا اصل نام نفیع بن حارث ہے اور وہ ثقیف کے غلاموں میں سے ہیں۔

پہلی روایت میں قلعے سے نکلنے والوں کی تعداد مبہم تھی، دوسری روایت میں وضاحت کردی گئی کہ ان کی تعداد تئیس(23)
تھی۔
سب سے پہلے ابوبکرہ ؓ نیچے اترے، شارحین نے قلعے سے اترنے والوں کے نام بھی لکھے ہیں۔
ان میں زیاد کی والدہ حضرت سمیہ ؓ کے شوہر ازرق بھی تھے۔
یہی وہی زیاد ہے جو بعد میں زیاد بن ابوسفیان کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ حضرت ابوبکرہ ؓ کا مادری بھائی تھا۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جب زیاد نے خود کو ابوسفیان ؓ کی طرف منسوب کیاتو ابوعثمان نہدی نے حضرت ابوبکرہ ؓ سے کہا:
آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ پھر انھوں نے مذکورہ حدیث کا حوالہ دیا۔
ابوبکرہ ؓ نے کہا:
میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان حدیث 219(63)

امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ حضرت ابوبکرہ ؓ ان اصحاب میں سے ہیں جو طائف کا قلعہ پھلانک کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو آزاد کردیا جو قلعے سے اترکر آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے۔
(فتح الباري: 58/8۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4327]