🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : فضل الرباط في سبيل الله
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى عَلَيْهِ أَجْرَ عَمَلِهِ الصَّالِحِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ رِزْقَهُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ، وَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں «رباط» (سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے) مر جائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہو گا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14617، ومصباح الزجاجة: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥معبد بن عبد الله القرشي، أبو زهرة
Newمعبد بن عبد الله القرشي ← أبو هريرة الدوسي
مقبول
👤←👥زهرة بن معبد القرشي، أبو عقيل
Newزهرة بن معبد القرشي ← معبد بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← زهرة بن معبد القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2767
من مات مرابطا في سبيل الله أجرى عليه أجر عمله الصالح الذي كان يعمل وأجرى عليه رزقه وأمن من الفتان وبعثه الله يوم القيامة آمنا من الفزع
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2767 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2767
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تیاری کا مطلب یہ ہے کہ وہ سرحد پر جنگ لے لیے بالکل تیار ہوتا ہے کہ جونہی جنگ شروع ہو وہ فوراً اس میں شریک ہوجائے۔

(2)
خلوص نیت کی وجہ سے نیک اعمال کا ثواب مل جاتا ہے اگرچہ اس عمل کو انجام دینے کا موقع نہ ملا ہو۔

(3)
ثواب جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندگی میں جو نیک اعمال کرتا تھا موت کے بعد بھی مسلسل ان اعمال کے برابر ثواب ملتا رہتا ہے۔

(4)
رزق سے مراد جنت کا رزق ہے۔

(5) (فُتَّانٌ)
آزمانے والوں سے مراد قبر میں حساب کتاب لینے والے فرشتے ہیں۔
ایسے شخص سے قبر میں حساب نہیں لیا جاتا یا وہ سوالوں کا صحیح جواب دیکر کامیاب ہوجاتا ہے۔
اس لفظ (فَتَّانٌ)
بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں اس سے دجال یا شیطان یا عذاب کا فرشتہ مراد ہے۔
محاذ پر وفات پانے والا ان سے محفوظ رہے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2767]

Sunan Ibn Majah Hadith 2767 in Urdu