🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب : نزول المحصب
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3067
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَعَبْدَةُ ، وَوَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابطح میں اترنا سنت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اترے تھے کہ وہاں سے مدینہ کے لیے روانگی میں آسانی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3067]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میدان ابطح میں ٹھہرنا کوئی سنت (اور شرعی حکم) نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں صرف اس لیے ٹھہرے تھے کہ (وہاں سے) روانگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آسانی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 59 (1311)، (تحفة الأشراف: 16788)، وباقی الإسناد وتفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17095، 17233، 17286، 17300)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1765)، سنن ابی داود/المناسک 87 (2008)، سنن الترمذی/الحج 82 (923) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← علي بن محمد الكوفي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1765
منزل ينزله النبي ليكون أسمح لخروجه يعني بالأبطح
صحيح مسلم
3169
نزول الأبطح ليس بسنة إنما نزله رسول الله لأنه كان أسمح لخروجه إذا خرج
صحيح مسلم
3171
نزله رسول الله لأنه كان منزلا أسمح لخروجه
جامع الترمذي
923
نزل رسول الله الأبطح لأنه كان أسمح لخروجه
سنن أبي داود
2008
نزل رسول الله المحصب ليكون أسمح لخروجه وليس بسنة فمن شاء نزله ومن شاء لم ينزله
سنن أبي داود
2006
نزل المحصب
سنن ابن ماجه
3067
نزول الأبطح ليس بسنة إنما نزله رسول الله ليكون أسمح لخروجه
بلوغ المرام
642
إنما نزله رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لانه كان منزلا اسمح لخروجه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3067 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3067
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ابطح يا بطحاء کے لفظی معنی ہموار اور وسیع قطعہ زمین کے ہیں۔
یہاں اس سے مراد مکہ اور منی کے درمیان کا میدان ہے۔
اس کو محصب کہتے ہیں۔ (فتح الباري: 3/ 754)

(2)
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ٹھہر کر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پانچ نمازیں ادا کیں۔
اسی رات کو مکہ جاکر طواف وداع کیا اور واپس آگئے۔

(3)
حضرت عائشہ اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرے کے لیے تشریف لے گئی تھیں۔
جب وہ واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں سے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔ (صحيح البخاري، العمرة، باب الاعتمار بعد الحج بغير هدي، حديث: 1786)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3067]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 642
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ابطح (محصب) میں فروکش ہونے کا عمل نہیں کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر اس لئے قیام فرمایا تھا کہ یہاں سے واپسی میں آسانی و سہولت زیادہ تھی۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 642]
642لغوی تشریح:
«با لا بطح» «ابطح» سے مراد وادی محصب ہی مراد ہے۔
«اسمع» زیادہ سہل و آسان۔
«لخروجه» مکہ سے مدینہ کو جانے کے لیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محصب میں قیام کرنا ان مناسک حج میں سے نہیں ہے جو مستحب ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ آپ اس مقام پر اس لیے اترے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں قریش نے بنو ہاشم سے نبوت کے ساتویں سال میں قطع تعلق کا عہد و پیمان کیا اور وہاں بیٹھ کر اس کا بائیکاٹ کا معاہدہ لکھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اترے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے رسول کو غلبہ عطا فرمایا، اس لیے ان کا قول ہے کہ حاجیوں کو یہاں فروکش ہونا چاہیے، مگر بظاہر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی درست معلوم ہوتا ہے۔ «والله اعلم»
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 642]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2008
وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2008]
فوائد ومسائل:
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اُترے تھے۔
اور بعد ازاں خلفائے راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین بھی یہاں اترتے رہے ہیں۔
اس لئے اس کے مستحب ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے ایک عام منزل سمجھتے تھے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2008]

Sunan Ibn Majah Hadith 3067 in Urdu