🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : الصيد يغيب ليلة
باب: اگر زخمی شکار رات بھر غائب رہ کر مل جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ شَيْئًا، غَيْرَهُ فَكُلْهُ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3213]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، وہ رات بھر مجھ سے غائب رہتا ہے۔ (اگلے دن ملتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے اس میں اپنا تیر لگا ہوا ملے اور اس میں تجھے اس کے سوا کچھ اور نہ ملے تو کھالے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الذبائح 8 (5484)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2849، 2850)، سنن الترمذی/الصید 3 (1469)، سنن النسائی/الصید 1 (4268)، 6 (4273)، 8 (4279)، 18 (4303)، (تحفة الأشراف: 9862) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهبصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4306
إذا رأيت سهمك فيه ولم تر فيه أثرا غيره وعلمت أنه قتله فكل
سنن ابن ماجه
3213
إذا وجدت فيه سهمك ولم تجد فيه شيئا غيره فكله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3213 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3213
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بے جان شکار میں اپنا تیر موجود ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسی تیر سے مراہے۔
چونکہ تیر چلانے وقت تکبیر پڑھی گئی تھی لہٰذا وہ ذبح شدہ کے حکم میں ہے۔

(2)
تیر کے سوا کچھ اور نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ یقین ہو کہ اس کی موت کی کوئی اور وجہ نہیں مثلاً:
وہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے تو ممکن ہے تیر سے نہ مرا ہو ڈوبنے سے مرا ہو۔
اسی طرح اگر کسی درندے کے کھانے کے اثرات ہیں تو ممکن ہے شکار اس درندے سے مرا ہو تیر سے نہ مرا ہو۔
اس لیے ایسے مشکوک شکار سے پرہیز کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3213]

Sunan Ibn Majah Hadith 3213 in Urdu