🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : إماطة الأذى عن الطريق
باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ , فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ , فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12432)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 32 (652)، المظالم 28 (2472)، صحیح مسلم/البر الصلة 36 (1914)، الإمارة 51 (1914)، سنن ابی داود/الأدب 172 (5245)، سنن الترمذی/البر والصلة 38 (1958)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 2 (6)، مسند احمد (2/495) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6671
رأيت رجلا يتقلب في الجنة في شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي الناس
صحيح مسلم
6672
شجرة كانت تؤذي المسلمين فجاء رجل فقطعها فدخل الجنة
سنن ابن ماجه
3682
على الطريق غصن شجرة يؤذي الناس فأماطها رجل فأدخل الجنة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3682 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3682
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا اللہ تعالی ٰ کو بہت پسند ہے۔

(2)
عوام کو فائدہ پہنچانے والا معمولی عمل بھی جنت میں داخلے کا باعث بن سکتا ہے۔

(3)
ناجائز تجاوزات کےذریعے سے راستہ تنگ کرنا، یا بند کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
عام طور پر شادی بیاہ کے موقعوں پر راستہ بند کر کے تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہ اللہ کے غضب کا باعث ہے۔

(4)
کوڑا کرکٹ راستے میں پھینکنا، یا وہاں قضائے حاجت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
سایہ دار درخت کے نیچے جہاں لوگ بیٹھتے ہوں اور راستے میں پیشاب پاخانہ کرنے والے پر لعنت پڑتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3682]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6671
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا:"میں نے جنت میں ایک آدمی کوایک درخت راستہ پشت سےکاٹنے کے سبب چلتے ہوئے دیکھا وہ درخت لوگوں کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6671]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
گزشتہ روایات میں ایک شاخ کاٹنے کا ذکر ہے اور یہاں درخت کہا گیا ہے،
کیونکہ وہ شاخ درخت سے راستہ پر گزرنے والوں کو لگتی تھی،
اس کے کاٹنے کو درخت کے کاٹنے سے تعبیر کر دیا،
کیونکہ وہ درخت کا حصہ تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6671]