سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : البغي
باب: بغاوت و سرکشی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4212
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا , الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ , وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً , الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4212]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلدی ثواب نیکی اور صلہ رحمی (رشتہ داروں سے حسن سلوک) کا ملتا ہے اور (اسی طرح) سب سے جلدی سزا زیادتی اور قطع رحمی (رشتہ داروں سے بدسلوکی) کی ملتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17882، ومصباح الزجاجة: 1502) (ضعیف جدا)» (سند میں صالح بن موسیٰ متروک راوی ہے، اور اسے ہی سوید میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
صالح بن موسى الطلحي : متروك (ت+3739)
صالح بن موسى الطلحي : متروك (ت+3739)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4212
| أسرع الخير ثوابا البر صلة الرحم أسرع الشر عقوبة البغي قطيعة الرحم |
Sunan Ibn Majah Hadith 4212 in Urdu
عائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق