سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: الْبَغْيِ
باب: بغاوت و سرکشی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4211
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , وَابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا , مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ , مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 51 (4902)، سنن الترمذی/صفة القیامة 57 (2511)، (تحفة الأشراف: 11693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 38) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی امام برحق کی اطاعت نہ کرنا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے مستعد ہونا، اور بعضوں نے کہا بغی سے یہاں ظلم مراد ہے یعنی لوگوں کو ستانا اور ان کی حق تلفی کرنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4212
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا , الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ , وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً , الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17882، ومصباح الزجاجة: 1502) (ضعیف جدا)» (سند میں صالح بن موسیٰ متروک راوی ہے، اور اسے ہی سوید میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
صالح بن موسى الطلحي : متروك (ت+3739)
صالح بن موسى الطلحي : متروك (ت+3739)
حدیث نمبر: 4213
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى 61 بَنِي عَامِرٍ 61 , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البروالصلة 10 (2564)، (تحفة الأشراف: 14941)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 40 (3882)، سنن الترمذی/البروالصلة 18 (1927)، مسند احمد (2/277، 311، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4214
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَنْ تَوَاضَعُوا , وَلَا يَبْغِي بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ ”تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 853، ومصباح الزجاجة: 1503) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح