🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : صفة الجنة
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ /a> , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ , كُلُّ دَرَجَةٍ مِنْهَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , وَإِنَّ أَعْلَاهَا الْفِرْدَوْسُ , وَإِنَّ أَوْسَطَهَا الْفِرْدَوْسُ , وَإِنَّ الْعَرْشَ عَلَى الْفِرْدَوْسِ , مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ , فَإِذَا مَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اس کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے، اور سب سے عمدہ بھی فردوس ہے اور عرش بھی فردوس پر ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4331]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جنت کے سو درجے ہیں۔ ہر درجہ اتنا بلند و بالا ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ سب سے بلند جنت الفردوس ہے۔ جنت کا درمیانی (یا اعلیٰ ترین) مقام فردوس ہے۔ عرشِ الٰہی فردوس پر ہے۔ اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ اس لیے تم جب اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11350)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة الجنة 4 (2530)، مسند احمد (5/232، 240) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← معاذ بن جبل الأنصاري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥حفص بن ميسرة العقيلي، أبو عمرو، أبو عمر
Newحفص بن ميسرة العقيلي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← حفص بن ميسرة العقيلي
صدوق يخطئ كثيرا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4331
الجنة مائة درجة كل درجة منها ما بين السماء والأرض أعلاها الفردوس أوسطها الفردوس العرش على الفردوس منها تفجر أنهار الجنة إذا ما سألتم الله فسلوه الفردوس
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4331 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4331
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
مومن ایمان اور اعمال کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔
اسی انداز میں جنت میں بہت سے درجات ہیں۔
جو ایک دوسرے سے اعلی اور عمدہ ہیں۔

(2)
جنت کے بلند درجات کے حصول کے لیے کوشش کرنا شرعا مطلوب ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَ سَارِعُوْ إِلٰی مَغْفِرَۃِ مِّن رَّبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُھَآ السَّمٰواتِ وَ الْاَرْض اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْن﴾  (سورۃ آل عمران 133/3)
 اور جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
وہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

(2)
جنت الفردوس سب سے اعلی و افضل ہے۔

(3)
اللہ کا عرش اسکی ایک مخلوق ہے جو حقیقی وجود رکھتی ہے۔
لہٰذا اس سے اللہ کی شان قدرت حکومت اقتدار وغیرہ مراد لینا درست نہیں۔

(5)
اللہ تعالی سے اعلی نعمت مانگنی چاہیے۔
خاص طور پر جنت الفردوس کا سوال کرنا چاہیے تاکہ انبیاء کرام اور خاص طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں جگہ مل جائے۔

(6)
جنت کا مالک اللہ ہے اس لیے درخواست بھی اللہ سے کرنی چاہیے۔
کسی نبی یا ولی سے نہیں۔
نبی بھی اللہ سے جنت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
مفہوم حدیث 3847
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4331]

Sunan Ibn Majah Hadith 4331 in Urdu