🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : الترجيع في الأذان
باب: اذان میں ترجیع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 708
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ مِعْيَرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ، فَصَرَخْنَا َحْكِيهِ نَهْزَأُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا، فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟" فَأَشَارَ إِلَيَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي:" قُمْ فَأَذِّنْ"، فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ:" قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، قَدْ أَمَرْتُكَ"، فَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ.
عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچا جان! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس (اذان یا اسلام) سے متنفر تھے (کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا: کھڑے ہو اذان دو، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کہو: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: بآواز بلند کہو: «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»، جب میں اذان دے چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے ملا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 708]
جناب عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ (بچپن میں) یتیم ہونے کی وجہ سے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے زیر کفالت رہے تھے۔ جب انہوں نے ابن محیریز رحمہ اللہ کو شام بھیجا تو انہوں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچا جان! میں شام جا رہا ہوں، (وہاں) مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں سوال کیا جائے گا (لہٰذا مجھے مسئلہ سنا اور سمجھا دیجئے)۔ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں چند افراد کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا۔ راستے میں ایک مقام پر (ٹھہرے وہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان دی۔ ہم نے بھی مؤذن کی آواز سنی۔ اس وقت ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ تھے۔ ہم مؤذن کا مذاق اڑاتے ہوئے بلند آواز سے اس کی نقل اتارنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری آواز سنی تو چند افراد کو ہماری طرف بھیج دیا۔ انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جس کی آواز مجھے (زیادہ) بلند سنائی دی تھی؟ سب کے سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کر دیا، اور ان کی بات درست تھی۔ (واقعتاً میں سب سے بلند آواز تھا)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو، اذان دو۔ میں کھڑا تو ہو گیا لیکن (اس وقت میری کیفیت یہ تھی کہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے اس حکم سے انتہائی نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ (بہر حال) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خود (ایک ایک کلمہ کر کے) اذان سکھائی۔ فرمایا: کہو: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» پھر فرمایا: بلند آواز سے کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» جب میں نے پوری اذان کہہ لی تو مجھے بلا کر ایک تھیلی دی، اس میں کچھ چاندی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا، پھر ان کے چہرے پر پھیرا، پھر ان کے سینے پر، پھر ان کے جگر پر حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی ناف تک جا پہنچا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ» اللہ تجھے برکت دے، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے پر مقرر فرمائیں گے؟ ارشاد ہوا: ہاں، میں نے تمہیں مقرر کیا۔ (اس دوران میں) میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی نفرت تھی سب ختم ہو چکی تھی، (بلکہ) وہ سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں تبدیل ہو چکی تھی۔ میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ گورنر حضرت ابن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں ان کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اذان دیتا رہا۔ عبد العزیز نے کہا: عبد اللہ بن محیریز رحمہ اللہ کی طرح مجھے اس شخص نے بھی خبر دی جس نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو پایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، سنن ابی داود/الصلاة 28 (502)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (191، 192)، سنن النسائی/الأذان 3 (630)، 4 (631)، (تحفة الأشراف: 12169)، مسند احمد (3/408، 409)، سنن الدارمی/الصلاة 7 (1232) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا حال معلوم ہوتا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ کس طرح نرمی اور شفقت سے برتاؤ کرتے تھے کہ ان کا دل خود پسیج جاتا، اور وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتے، جو کوئی برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرنا یہی اس کو شرمندہ کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو محذورة القرشي، أبو محذورةصحابي
👤←👥عبد الله بن محيريز الجمحي، أبو محيريز
Newعبد الله بن محيريز الجمحي ← أبو محذورة القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الملك القرشي
Newعبد العزيز بن عبد الملك القرشي ← عبد الله بن محيريز الجمحي
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد العزيز بن عبد الملك القرشي
ثقة
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ جليل
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
708
بارك الله لك وبارك عليك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 708 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث708
اردو حاشہ:
(1)
یتیم بچوں کی کفالت ایک عظیم نیکی ہے جس پر جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوس ملنے کی بشارت دی گئی ہے۔
کفالت میں جس طرح جسمانی ضروریات خوراک، لباس وغیرہ کا پورا کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح روحانی ضروریات یعنی دین کی تعلیم اور اخلاق حسنہ کی تربیت بھی ضروری ہے۔

(2)
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت کا کمال ہے کہ جہاں بھی جوہر قابل نظر آیا اس کی صلاحیتوں کو نکھار کر اس سے دین کا کام لے لیا۔
ایک اچھے داعی کو بھی عوام میں جوہر قابل کی پہچان کا ملکہ حاصل ہونا چاہیے اور ایسے افراد کی مناسب تربیت کرکے انھیں اسلام کا خادم بنانا چاہیے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی بلند آواز سن کر یہ فیصلہ کیا کہ اسے مؤذن بنادیا جائے۔
اس طرح نادان بچوں اور غافل نوجوانوں کو بھی قریب کرنا چاہیے۔
اس کے بعد ان کی اصلاح وتربیت کی جائے تاکہ دوبارہ غلطی نہ کریں اور ان کا کردار بہتر ہوجائے۔

(5)
بچوں کے جسم پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا ان کے دل میں محبت پیداکرنا ہے۔
بشرطیکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو جیسے بڑے اور چھوٹے کی عمر میں کافی فرق نہ ہونے کی صورت میں ایسے شکوک وشبہات پیدا ہوسکتے ہیں جن کا نتیجہ الزامات اور بدنامی کی صورت میں نکلا کرتا ہے۔

(6)
تربیت میں انفرادی توجہ کی بھی خاص اہمیت ہے تاکہ ہر فرد کی صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔

(7)
بچوں کو حوصلہ افزائی کے لیے مناسب انعام دینا بھی بہت مفید ہے یہ انعام نقد بھی ہوسکتا ہے کسی عام استعما ل کی چیز کی صورت میں اور دعا یا حوصلہ افزائی اور تعریف کے چند کلمات کی صورت میں بھی۔

(8)
اگر کسی عہدے کی اہلیت رکھنے والا اس عہدے کی درخواست پیش کرے تو اسے وہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے اگر چہ عہدے کا لالچ رکھنا اچھی بات نہیں،
(9)
اذان میں شہادتین کے کلمات دودوبار کہنے کے بعد دوسری بار پھر دوبار کہنا ترجیع کہلاتا ہے۔
اور یہ سنت ہے۔
عرف عام میں اسے دوہری اذان کہتے ہیں۔
مؤذن چاہے اکہری اذان (بلا ترجیع)
کہ لے، چاہے دہری اذان (ترجیع کے ساتھ)
کہہ لے، دونوں طرح جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 708]

Sunan Ibn Majah Hadith 708 in Urdu