🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : المشي إلى الصلاة
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552) (الف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، سنن الترمذی/الجمعة 70 (330)، مسند احمد (2/176) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1521
من تطهر في بيته ثم مشى إلى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله كانت خطوتاه إحداهما تحط خطيئة والأخرى ترفع درجة
جامع الترمذي
603
إذا توضأ الرجل فأحسن الوضوء ثم خرج إلى الصلاة لا يخرجه إلا إياها لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة أو حط عنه بها خطيئة
سنن ابن ماجه
281
أحدكم إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة حتى يدخل المسجد
سنن ابن ماجه
774
إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء ثم أتى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة لا يريد إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة حتى يدخل المسجد فإذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 774 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث774
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت بیان ہوئی ہے کیونکہ نفلی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
ارشاد نبوی ہے:
مرد کی بہترین نماز (وہ ہوتی ہےجو)
اس کے گھر میں (ادا کی جاتی)
ہے سوائے فرض نماز کے۔ (صحيح البخاري، الأدب، باب ما يجوز من الغضب والشدة لأمرالله تعالي، حديث: 6113)
سنن ابن ماجہ میں بھی اس مسئلہ کی حدیثیں موجود ہیں۔ دیکھیے (حدیث: 1375 تا 1378)

(2)
وضو اچھی طرح کرنا ثواب کا باعث ہے۔

(3)
مسجد میں آنے کا مقصد نماز کے علاوہ کوئی اور جائز کام بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ کر مسجد میں آئےکہ فلاں کام بھی ہوجائے گا اور نماز بھی پڑھی جائے گی لیکن اسے وہ ثواب نہیں ملے گا جو صرف نماز کے لیے آنے پر ملتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کوئی اور کام انجام دینا پیش نظر نہ ہو۔

(4)
نماز کے لیے مسجد تک راستہ طے کرنے کا ثواب اس قدر عظیم ہے کہ ہر قدم پر درجے بلند ہوتے اور گناہ معاف ہوتے ہیں تو خود نماز اللہ کے ہاں کس قدر عظیم عمل ہے اور نماز باجماعت کا کس قدر ثواب ہے اس کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ نماز پورے آداب اور خشوع وخضوع سے ادا کی جائے۔

(5)
نماز باجماعت کے انتظار میں مسجد میں بیٹھ رہنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ اذان ہوتے ہی مسجد میں آ جائیں۔
اذان کے بعد یہ سوچ کر گھر میں بیٹھے رہنا کہ ابھی کافی وقت ہے بڑی محرومی کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 774]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث281
وضو (طہارت) کا ثواب۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 281]
اردو حاشہ:
(1)
وضو کرتے ہوئے اچھی طرح سنوار کر وضو کرنے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔

(2)
بعض اوقات انسان مسجد میں آتا ہے تو اس کا مقصد کسی آدمی سے ملاقات کرنا یا کوئی اور ضرورت پوری کرنا ہوتا ہےمگر ساتھ نماز بھی پڑھ لیتا ہے۔
اس صورت میں نماز کے ثواب میں کمی نہیں آتی لیکن جب صرف نماز کے لیے گھر سے نکلے کوئی اور مقصد نہ ہو تو ثواب زیادہ ہوتا ہے۔

(3)
نماز اتنا عظیم عمل ہے کہ اس کے لیے مسجد میں آنے کا اس قدر ثواب ہے تو خود نماز اگر پورے آداب وشرو ط کا خیال رکھتے ہوئے پڑھی جائے تو کتنی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوں گی اور یہ نماز کس قدر بلندی درجات کا باعث ہوگ
(4)
اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اس نے بظاہر معمولی نظر آنے والے اعمال کے لیے بہت اجروثواب مقرر کر رکھا ہے، پھر بھی اگر انسان جہنم سے چھٹکارا پاکر جنت حاصل نہ کرسکے تو یہ حقیقتاً انسان کی بہت بڑی کوتاہی ہے۔
  مسجد کی بجائے اپنے گھر دفتر اور دکان وغیرہ سے وضو کرکے مسجد میں آنے کا ثواب زیادہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 281]