علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : العقيقة عن الغلام
باب: لڑکے کے عقیقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4219
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَحَبِيبٌ، وَيُونُسُ، وَقَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی پیدائش پر ۱؎ اس کا عقیقہ ہے، تو اس کی جانب سے خون بہاؤ ۲؎ اور اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرو“ ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4219]
حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى» ”بچے کی طرف سے عقیقہ ہونا چاہیے، لہٰذا جانور ذبح کرو اور بچے سے میل کچیل دور کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العقیقة 2 (5471)، سنن ابی داود/الضحایا 21 (2839)، سنن الترمذی/الضحایا 17 (1515)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3164)، (تحفة الأشراف: 4485)، مسند احمد (4/17، 18، 214)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2010) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس جملہ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ ”عقیقہ صرف لڑکے کی پیدائش پر ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر نہیں، لیکن یہ استدلال صرف ایک حدیث پر نظر رکھنے کا نتیجہ ہے جو اصول استدلال کے خلاف ہے، متعدد دیگر احادیث وارد ہیں جن میں لڑکی کی طرف سے بھی خون بہا نے کا حکم دیا گیا ہے۔ (دیکھئیے اگلی حدیث) ۲؎: اسی جملہ سے (نیز حدیث نمبر ۴۲۲۵ کے مفہوم) سے عقیقہ کے واجب ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، جب کہ بعض لوگ حدیث نمبر۴۲۱۸ کے جملہ ”جو چاہے وہ عقیقہ کرے“ سے استحباب پر استدلال کرتے ہیں، سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح بخاری کی ہے جب کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث صرف سنن کی ہے، نیز سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے معنی کی تائید حدیث نمبر ۴۲۲۵ کے اس مفہوم سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد بن حنبل نے بیان کیا ہے، نیز ام کرز رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے، ہاں جس کو عقیقہ کرنے کی استطاعت ہی نہ ہو تو اس سے معاف ہے، اگر ماں باپ کو اکیسوئیں دن بھی عقیقہ کرنے کی استطاعت ہو جائے تو کر دے، اس کے بعد وجوب ساقط ہو جائے گا۔ ۳؎: یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سلمان بن عامر الضبي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← سلمان بن عامر الضبي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥حبيب بن الشهيد الأزدي، أبو محمد، أبو شهيد حبيب بن الشهيد الأزدي ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة ثبت | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← حبيب بن الشهيد الأزدي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← أيوب السختياني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5471
| الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى |
جامع الترمذي |
1515
| الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى |
سنن أبي داود |
2839
| مع الغلام عقيقته فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى |
سنن النسائى الصغرى |
4219
| في الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى |
سنن ابن ماجه |
3164
| مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى |
مسندالحميدي |
842
| مع الصبي عقيقة فأهريقوا عنه دما، وأميطوا عنه الأذى |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4219 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4219
اردو حاشہ:
(1) ”ذبح کرو“ حکم ہے، نیز عقیقہ آپ کا فعل ہے، لہٰذا کم از کم سنت تو ہے اگرچہ بعض اہل علم نے امر کی وجہ سے واجب کہا ہے۔
(2) ”میل کچیل دور کرو“ مراد سر کے بال ہیں۔ گویا عقیقہ کے ساتھ بچے کا سر بھی مونڈا جائے گا بلکہ ایک روایت کے مطابق اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی جائے۔ بعض نے اس سے ختنہ مراد لیا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا خون بچے کے سر پر نہ ملا جائے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔
(1) ”ذبح کرو“ حکم ہے، نیز عقیقہ آپ کا فعل ہے، لہٰذا کم از کم سنت تو ہے اگرچہ بعض اہل علم نے امر کی وجہ سے واجب کہا ہے۔
(2) ”میل کچیل دور کرو“ مراد سر کے بال ہیں۔ گویا عقیقہ کے ساتھ بچے کا سر بھی مونڈا جائے گا بلکہ ایک روایت کے مطابق اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی جائے۔ بعض نے اس سے ختنہ مراد لیا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا خون بچے کے سر پر نہ ملا جائے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4219]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3164
عقیقہ کا بیان۔
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3164]
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3164]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وہ جانور جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے ”عقیقہ“ کہتے ہیں۔
لغت میں اس کے معنی:
کاٹنا اور شق کرنا ہیں۔
یہ لفظ ہر نوزائیدہ بچے کے ان بالوں پر بھی بولا جاتا ہے جو شکم مادر میں اگے ہوں، اور اسی مناسبت سے اس ذبیحہ کو عقیقہ کہتے ہیں۔
(2)
خون بہانے کا مطلب جانور ذبح کرنا ہے۔
(3)
میل کچیل دور کرنے کا مطلب سر کے بال اتارنا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
وہ جانور جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے ”عقیقہ“ کہتے ہیں۔
لغت میں اس کے معنی:
کاٹنا اور شق کرنا ہیں۔
یہ لفظ ہر نوزائیدہ بچے کے ان بالوں پر بھی بولا جاتا ہے جو شکم مادر میں اگے ہوں، اور اسی مناسبت سے اس ذبیحہ کو عقیقہ کہتے ہیں۔
(2)
خون بہانے کا مطلب جانور ذبح کرنا ہے۔
(3)
میل کچیل دور کرنے کا مطلب سر کے بال اتارنا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3164]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:842
842- سیدنا سلمان بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ار شاد فر ماتے ہوئے سنا ہے: ”بچے کاعقیقہ کیا جائے گا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کردو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:842]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ واجب ہے اور یہی رائج ہے۔ «فأهريقوا» امر ہے جو کہ وجوب کے لیے ہے۔ یاد رہے عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا مشروع ہے۔ اور جانور بھی چھوٹا کیا جائے گا، مثلاً: بکرا، چھترا، دنبہ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ واجب ہے اور یہی رائج ہے۔ «فأهريقوا» امر ہے جو کہ وجوب کے لیے ہے۔ یاد رہے عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا مشروع ہے۔ اور جانور بھی چھوٹا کیا جائے گا، مثلاً: بکرا، چھترا، دنبہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 846]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4219 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← سلمان بن عامر الضبي