سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب ومن سورة محمد صلى الله عليه وسلم
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ "، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ "، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات» ”تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ“ (محمد: ۱۹)، کی تفسیر میں فرمایا: ”میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں“،
۳- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3259]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں“،
۳- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 145 (43
4- 439) (تحفة الأشراف: 15278) (صحیح)»
4- 439) (تحفة الأشراف: 15278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد عبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6307
| أستغفر الله وأتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة |
جامع الترمذي |
3259
| أستغفر الله في اليوم سبعين مرة |
سنن ابن ماجه |
3815
| أستغفر الله وأتوب إليه في اليوم مائة مرة |
المعجم الصغير للطبراني |
1067
| أستغفر الله في اليوم وأتوب إليه في كل يوم مائة مرة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3259 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3259
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ۔
(محمد: 19)
وضاحت:
1؎:
تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ۔
(محمد: 19)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3259]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6307
6307. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ایک دن میں اللہ کے حضور ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6307]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغفرت طلب کرتے اور توبہ کا عزم کرتے تھے، خواہ کوئی بھی الفاظ ہوں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل الفاظ سو مرتبہ شمار کرتے تھے:
(رب اغفرلي و تب علي، إنك أنت التواب الغفور)
''میرے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رجوع فرما۔
بلاشبہ تو ہی بے حد بخشنے والا بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
'' (مسند أحمد: 2/21) (2)
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں مذکور الفاظ ہی استعمال کرتے ہوں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔
(أستغفرُاللهَ الذي لا الهَ إلا هو الحيُّ القيومُ و أَتوبُ إليه)
''میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
وہ زندہ جاوید اور قائم رہنے والا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
'' (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3397) (3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توبہ استغفار کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر تھا:
٭ اظہار عبودیت کے لیے۔
٭ امت کو تعلیم دینے کے لیے۔
٭ تواضع اور انکسار کے لیے۔
٭ ترک اولیٰ کی بنا پر استغفار کرتے تھے، پھر دوسری احادیث میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کی تعداد سو تک پہنچتی تھی۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3259)
(1)
حدیث کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغفرت طلب کرتے اور توبہ کا عزم کرتے تھے، خواہ کوئی بھی الفاظ ہوں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل الفاظ سو مرتبہ شمار کرتے تھے:
(رب اغفرلي و تب علي، إنك أنت التواب الغفور)
''میرے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رجوع فرما۔
بلاشبہ تو ہی بے حد بخشنے والا بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
'' (مسند أحمد: 2/21) (2)
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں مذکور الفاظ ہی استعمال کرتے ہوں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔
(أستغفرُاللهَ الذي لا الهَ إلا هو الحيُّ القيومُ و أَتوبُ إليه)
''میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
وہ زندہ جاوید اور قائم رہنے والا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
'' (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3397) (3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توبہ استغفار کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر تھا:
٭ اظہار عبودیت کے لیے۔
٭ امت کو تعلیم دینے کے لیے۔
٭ تواضع اور انکسار کے لیے۔
٭ ترک اولیٰ کی بنا پر استغفار کرتے تھے، پھر دوسری احادیث میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کی تعداد سو تک پہنچتی تھی۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3259)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6307]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي