یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب في فضل النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: " أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے،
۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3612]
۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے،
۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14295) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث نمبر 3614 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں مذکورہ ”وسیلہ“ سے وہی وسیلہ مراد ہے، جس کی دعا ایک امتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اذان کے بعد کرتا ہے، «اللہم آت محمد الوسیلۃ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما“ اس حدیث میں آپ نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کر دیا، اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کر سکتا ہے، یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا، آپ کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ ہی ہوں گے، اس حدیث سے آپ کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5767) ، وهو الآتى (3876)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥كعب المدني، أبو عامر كعب المدني ← أبو هريرة الدوسي | مجهول | |
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير الليث بن أبي سليم القرشي ← كعب المدني | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← الليث بن أبي سليم القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← سفيان الثوري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3612
| سلوا الله لي الوسيلة قالوا يا رسول الله وما الوسيلة قال أعلى درجة في الجنة لا ينالها إلا رجل واحد أرجو أن أكون أنا هو |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3612 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3612
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں مذکورہ ”وسیلہ“ سے وہی وسیلہ مراد ہے،
جس کی دعا ایک امتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اذان کے بعد کرتاہے،
(اللهم آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیْلَةَ) (اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کر دیا،
اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کر سکتا ہے،
یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے،
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے،
اس حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
نوٹ:
(سندمیں لیث بن ابی سلیم ضعیف،
اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں،
لیکن حدیث نمبر:3614 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں مذکورہ ”وسیلہ“ سے وہی وسیلہ مراد ہے،
جس کی دعا ایک امتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اذان کے بعد کرتاہے،
(اللهم آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیْلَةَ) (اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کر دیا،
اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کر سکتا ہے،
یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے،
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے،
اس حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
نوٹ:
(سندمیں لیث بن ابی سلیم ضعیف،
اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں،
لیکن حدیث نمبر:3614 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3612]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3612 in Urdu
كعب المدني ← أبو هريرة الدوسي