صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
The Book of Zakat
53. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} وَكَمِ الْغِنَى:
53. باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جو لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے“ اور کتنے مال سے آدمی مالدار کہلاتا ہے۔
(53) Chapter. The Statement of Allah:
حدیث نمبر: 1479
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال:" ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان، ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسال الناس".(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 2, Book 24, Number 557


   صحيح البخاري4539عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان ولا اللقمة ولا اللقمتان إنما المسكين الذي يتعفف واقرءوا إن شئتم
   صحيح البخاري1479عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس
   صحيح البخاري1476عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده الأكلة والأكلتان ولكن المسكين الذي ليس له غنى ويستحيي أو لا يسأل الناس إلحافا
   صحيح مسلم2393عبد الرحمن بن صخرليس المسكين بهذا الطواف الذي يطوف على الناس فترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان قالوا فما المسكين يا رسول الله قال الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يسأل الناس شيئا
   صحيح مسلم2394عبد الرحمن بن صخرليس المسكين بالذي ترده التمرة والتمرتان ولا اللقمة واللقمتان إنما المسكين المتعفف اقرءوا إن شئتم لا يسألون الناس إلحافا
   سنن أبي داود1631عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان والأكلة والأكلتان ولكن المسكين الذي لا يسأل الناس شيئا ولا يفطنون به فيعطونه
   سنن النسائى الصغرى2574عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده الأكلة والأكلتان والتمرة والتمرتان قالوا فما المسكين يا رسول الله قال الذي لا يجد غنى ولا يعلم الناس حاجته فيتصدق عليه
   سنن النسائى الصغرى2573عبد الرحمن بن صخرليس المسكين بهذا الطواف الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان قالوا فما المسكين قال الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس
   سنن النسائى الصغرى2572عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان واللقمة واللقمتان إن المسكين المتعفف اقرءوا إن شئتم لا يسألون الناس إلحافا
   صحيفة همام بن منبه75عبد الرحمن بن صخرليس المسكين هذا الطواف الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان إنما المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ويستحيي أن يسأل الناس ولا يفطن له فيتصدق عليه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم473عبد الرحمن بن صخرليس المسكين بهذا الطواف الذى يطوف على الناس، ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان
   مسندالحميدي1090عبد الرحمن بن صخرليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان، ولا اللقمة واللقمتان، ولكن المسكين الذي لا يسأل ولا يعرف مكانه فيعطى

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 473  
´مسکین کون؟`
«. . . 369- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس المسكين بهذا الطواف الذى يطوف على الناس، ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان، قالوا: فمن المسكين يا رسول الله؟ قال: الذي لا يجد غنى يغنيه، ولا يفطن له فيتصدق عليه، ولا يقوم فيسأل الناس. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں گھومنے والا مسکین نہیں ہے جو ایک دو نوالے اور ایک دو کھجوریں لے کر واپس چلا آتا ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر مسکین کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے مال نہ ہو اور لوگوں کو اس (کی غربت) کا پتا نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور یہ شخص اٹھ کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 473]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1479، من حديث مالك، ومسلم 101/1039، من حديث ابي الزناد به]

تفقه:
➊ پیشہ ور بھکاری مسکین کے حکم میں نہیں ہیں اور نہ وہ ایسے سائل ہیں جن کا حق ہوتا ہے۔
➋ اپنے قبیلے، محلے اور جان پہچان والوں میں ایسے آدمی تلاش کرکے خفیہ طور پر ان کی مدد کی جائے جو سفید پوش اور غیرت مند ہوتے ہیں لیکن ان کا گزر اوقات مشکل ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں سے تعاون کرنا عظیم نیکی اور بہت ثواب کا کام ہے۔
➌ سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الصدقة علی المسکین صدقة وھي علیٰ ذی الرحم المسکین ثنتان: صدقة وصلة۔»
مسکین کو صدقہ دینا تو صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین کو دینا دو (صدقے) ہیں: صدقہ اور صلہ رحمی۔ [مسند الحميدي بتحقيقي مخطوط ص562 ح825 وسنده صحيح، سنن الترمذي: 658 وقال: حديث حسن وصححه ابن خزيمه: 2067، والحاكم 1/407، والذهبي ولم أر لمضعفه حجة قوية]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 369   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1631  
´زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1631]
1631. اردو حاشیہ:
➊ فقیر اور مسکین دونوں ہی نادار ہوتے ہیں۔ مگر مسکین کی ٹوہ لگانی پڑتی ہے۔مسکینی وہی محمود ہے۔جس میں سوال سے عفت اور صبروقناعت پائی جائے۔
➌ اس حدیث سے دیگر احادیث میں یہ ارشاد ہے کہ ایسے مساکین سے تعاون زیادہ افضل ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1631   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.