الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
Fasting (Kitab Al-Siyam)
18. باب فِي الرَّجُلِ يَسْمَعُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ
18. باب: آدمی اذان فجر اس حال میں سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو کیا کرے؟
Chapter: A Man Who Hears The Call While A Vessel Is In His Hand.
حدیث نمبر: 2350
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا سمع احدكم النداء والإناء على يده، فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/423، 510) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need.
USC-MSA web (English) Reference: Book 13 , Number 2343


قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1988)

   سنن أبي داود2350عبد الرحمن بن صخرإذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2350  
´آدمی اذان فجر اس حال میں سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو کیا کرے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2350]
فوائد ومسائل:
سحری کا وقت تنگ ہو رہا ہو اور اذان فجر اپنے وقت صبح پر شروع ہو جائے تو اجازت ہے کہ انسان پانی پی لے اور دو چار لقمے لے لے، مگر چائے کی طرح کے مشروب کی چسکیاں لینا درست نہیں ہو گا۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2350   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.