صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
The Book of The Stories of The Prophets
حدیث نمبر: 3472
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسحاق بن نصر، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" اشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب، فقال له: الذي اشترى العقار خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الارض ولم ابتع منك الذهب، وقال: الذي له الارض إنما بعتك الارض وما فيها فتحاكما إلى رجل، فقال: الذي تحاكما إليه الكما ولد، قال: احدهما لي غلام، وقال: الآخر لي جارية، قال: انكحوا الغلام الجارية وانفقوا على انفسهما منه وتصدقا".(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ: الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، وَقَالَ: الَّذِي لَهُ الْأَرْضُ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ، قَالَ: أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ، وَقَالَ: الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ، قَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہارے کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور سونا انہیں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کر دو۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "A man bought a piece of and from another man, and the buyer found an earthenware jar filled with gold in the land. The buyer said to the seller. 'Take your gold, as I have bought only the land from you, but I have not bought the gold from you.' The (former) owner of the land said, "I have sold you the land with everything in it.' So both of them took their case before a man who asked, 'Do you have children?' One of them said, "I have a boy.' The other said, "I have a girl.' The man said, 'Marry the girl to the boy and spend the money on both of them and give the rest of it in charity.' "
USC-MSA web (English) Reference: Volume 4, Book 55, Number 678


   صحيح البخاري3472عبد الرحمن بن صخراشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال له الذي اشترى العقار خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع منك الذهب وقال الذي له الأرض إنما بعتك الأرض وما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه
   صحيح مسلم4497عبد الرحمن بن صخراشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال له الذي اشترى العقار خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع منك الذهب فقال الذي شرى الأرض إنما بعتك الأرض وما فيها قال فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه
   سنن ابن ماجه2511عبد الرحمن بن صخررجل اشترى عقارا فوجد فيها جرة من ذهب فقال اشتريت منك الأرض ولم أشتر منك الذهب فقال الرجل إنما بعتك الأرض بما فيها فتحاكما إلى رجل فقال ألكما ولد فقال أحدهما لي غلام وقال الآخر لي جارية قال فأنكحا الغلام الجارية ولينفقا على أنفسهما
   صحيفة همام بن منبه79عبد الرحمن بن صخراشترى رجل من رجل عقارا فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال له الذي اشترى ألكما ولد

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2511  
´جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع (بیچنے والے) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی ش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2511]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سابقہ امتوں کے واقعات بطور عبرت ونصیحت بیان کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ قرآن مجید یا صحیح احادیث سےثابت ہوں، ضعیف من گھڑٹ اورموضوع روایات سے وعظہ وخطبات کومزین کرنا جائز نہیں۔

(2)
  گزشتہ امتوں کے شرعی مسائل میں سے صرف ان مسائل پرعمل کیا جا سکتا ہےجو ہماری شریعت کےمنافی نہ ہوں۔

(3)
خرید و فروخت میں دیانت داری اورایک دوسرے کی خیر خواہی باعث برکت ہے۔

(4)
اختلافی معاملے میں ایسی صورت اختیار کرلینا بہت اچھی بات ہے جس پر دونوں فریق راضی ہوں۔

(5)
مدفون خزانہ اس شخص کی جائز ملکیت ہے جسے وہ ملے بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کس نے دفن کیا تھا۔

(6)
مدفون خزانہ پورے کا پورا اپنی ذات پرخرچ نہیں کرنا چاہیے۔
ہماری شریعت میں اس کےلیے پانچویں حصے کی حد مقرر ہے یعنی بیس فی صد بطور زکاۃ ادا کرکے باقی ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2511   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3472  
3472. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی۔ جس نے زمین خریدی تھی اس نے زمین میں ایک گھڑا پایا جو سونے سے بھرا ہوا تھا تو اس نے فروخت کنندہ سے کہا: تم اپنا سونا مجھ سے لے لو کیونکہ میں نے تجھ سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا۔ زمین کے مالک نے کہا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب تجھے فروخت کردیاتھا۔ آخر وہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنامقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا: کیا تم دونوں کی اولادہے؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے۔ دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ اس(فیصلہ کرنے والے)نے کہا: اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کردو اور اس مال کو ان دونوں پر خرچ کردو، نیز کچھ صدقہ وخیرات کرتے ہوئے محتاجوں کو دے دو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3472]
حدیث حاشیہ:
قسطلانی ؒ نے کہا کہ شافعہ کا مذہب یہ ہے اگرکوئی زمین بیچے پھر اس میں سےخزانہ نکلے تووہ بائع ہی کا ہوگاجیسے گھر بیچے اس میں کچھ اسباب ہوتو وہ بائع ہی کوملے گا مشتری شرط کرلے تو دوسری بات ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 3472   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3472  
3472. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی۔ جس نے زمین خریدی تھی اس نے زمین میں ایک گھڑا پایا جو سونے سے بھرا ہوا تھا تو اس نے فروخت کنندہ سے کہا: تم اپنا سونا مجھ سے لے لو کیونکہ میں نے تجھ سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا۔ زمین کے مالک نے کہا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب تجھے فروخت کردیاتھا۔ آخر وہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنامقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا: کیا تم دونوں کی اولادہے؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے۔ دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ اس(فیصلہ کرنے والے)نے کہا: اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کردو اور اس مال کو ان دونوں پر خرچ کردو، نیز کچھ صدقہ وخیرات کرتے ہوئے محتاجوں کو دے دو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3472]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ بہت محتاط اور پرہیز گار تھے۔
البتہ ہمارے اس پر آشوب دور میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔
معمولی معمولی چیز میں بددیانتی کرتے ہیں اور لوگوں کے مال غصب کرنے میں فخر کرتے ہیں۔

ہماری شریعت میں ایسے مال کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ اگر قرائن سے معلوم ہو جائے کہ وہ دور جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے تو وہ رکازہے اور اس سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرنا ہوگا۔
اگر وہ مال دور اسلام کا ہے تو وہ لقطے کے حکم میں ہو گا اور اگر پتہ نہ چل سکے تو تمام مال بیت المال میں جمع کردیا جائے جو مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات میں صرف کیا جائے گا۔

بعض حضرات کا موقف ہے کہ جو کوئی زمین کا مالک ہو جائے تو وہ عطا کردہ باطن کی ہر چیز کا مالک ہو جاتا ہے اور زمین کا مالک بنتے وقت اگر اسے زمین کے باطن میں کسی چیز کا علم نہ ہو تو یہ اس کی ملکیت کو ساقط نہیں کرتا۔
کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اگر کوئی زمین بیچے پھر اس میں سے خزانہ نکل آئے تو وہ بیچنے والے کا ہو گا جیسا کہ گھر بیچنے کی صورت میں اس کا مال واسباب بیچنے والے کا ہوتا ہے ہاں اگر خریدنے والا شرط کر لے تو دوسری بات ہے۔
واللہ أعلم۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 3472   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.