الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
Chapters on Zuhd
38. بَابُ : صِفَةِ النَّارِ
38. باب: جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔
Chapter: Description of Hell
حدیث نمبر: 4326
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبادة الواسطي , حدثنا يعقوب بن محمد الزهري , حدثنا إبراهيم بن سعد , عن الزهري , عن عطاء بن يزيد , عن ابي هريرة , عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" تاكل النار ابن آدم إلا اثر السجود , حرم الله على النار ان تاكل اثر السجود".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14215)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 129 (806)، الرقاق 52 (6573)، التوحید 26 (7437)، صحیح مسلم/الإیمان 81 (182)، مسند احمد (2/276، 293، 534، 3/94) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح

   سنن ابن ماجه4326عبد الرحمن بن صخرتأكل النار ابن آدم إلا أثر السجود حرم الله على النار أن تأكل أثر السجود
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4326 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4326  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مومن گناہ گار جو جہنم میں جائے گا۔
وہ اپنی سزا بھگتنے کے بعد جل کر کوئلہ ہوجائے گا تاہم وہ زندہ ہوکر جنت میں جائے گا۔ (حدیث: 4309)
 زیر مطالعہ حدیث میں ایسے ہی مومن کا ذکر ہے۔
جسے سجدے کے نشان کی وجہ سے پہچان کر جہنم سے نکالا جائے گا۔

(3)
بے نماز کے چہرے پہ سجدے کا نشان نہیں ہوگا۔
اس لیے فرشتے اسے جہنم سے نہیں نکالیں گے۔
جبکہ دوسرے گناہگاروں کو وہ اللہ کے حکم سے جہنم سے نکال لیں گے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4326   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.