صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
The Book of Divorce
47. بَابُ الْكُحْلِ لِلْحَادَّةِ:
47. باب: عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے۔
(47) Chapter. Can a mourning lady use kohl?
حدیث نمبر: 5338
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا آدم بن ابي إياس، حدثنا شعبة، حدثنا حميد بن نافع، عن زينب بنت ام سلمة، عن امها، ان امراة توفي زوجها، فخشوا على عينيها، فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستاذنوه في الكحل، فقال: لا تكحل، قد كانت إحداكن تمكث في شر احلاسها او شر بيتها، فإذا كان حول فمر كلب رمت ببعرة، فلا حتى تمضي اربعة اشهر وعشر".(مرفوع) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَشُوا عَلَى عَيْنَيْهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ: لَا تَكَحَّلْ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ، فَلَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے حمید بن نافع نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ (زمانہ عدت میں) نہ لگاؤ۔ (زمانہ جاہلیت میں) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا، یا (راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ) بدترین گھر میں وقت (عدت) گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی (جب عدت سے باہر آتی) پس سرمہ نہ لگاؤ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں۔

Narrated Um Salama: A woman was bereaved of her husband and her relatives worried about her eyes (which were diseased). They came to Allah's Apostle, and asked him to allow them to treat her eyes with kohl, but he said, "She should not apply kohl to her eyes. (In the Pre-Islamic period of Ignorance) a widowed woman among you would stay in the worst of her clothes (or the worst part of her house) and when a year had elapsed, if a dog passed by her, she would throw a globe of dung, Nay, (she cannot use kohl) till four months and ten days have elapsed."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 63, Number 252


   صحيح البخاري5336زينب بنت عبد اللهأربعة أشهر وعشر كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول
   صحيح البخاري5338زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن تمكث في شر أحلاسها فإذا كان حول فمر كلب رمت ببعرة لا حتى تمضي أربعة أشهر وعشر لا يحل لامرأة مسلمة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاثة أيام إل
   صحيح البخاري5334زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
   صحيح البخاري5706زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن تمكث في بيتها في شر أحلاسها فإذا مر كلب رمت بعرة هلا أربعة أشهر وعشرا
   صحيح مسلم3731زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن تكون في شر بيتها في أحلاسها حولا فإذا مر كلب رمت ببعرة فخرجت أفلا أربعة أشهر وعشرا
   صحيح مسلم3727زينب بنت عبد اللهأربعة أشهر وعشر كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول
   صحيح مسلم3726زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
   جامع الترمذي1197زينب بنت عبد اللهأربعة أشهر وعشرا كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول
   جامع الترمذي1196زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
   سنن أبي داود2299زينب بنت عبد اللهأربعة أشهر وعشر كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول
   سنن أبي داود2299زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
   سنن أبي داود2299زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
   سنن النسائى الصغرى3531زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن تمكث في بيتها في شر أحلاسها حولا ثم خرجت لا أربعة أشهر وعشرا
   سنن النسائى الصغرى3568زينب بنت عبد اللهإلا أربعة أشهر وعشرا كانت إحداكن في الجاهلية تحد على زوجها سنة ثم ترمي على رأس السنة بالبعرة
   سنن النسائى الصغرى3569زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن تحد السنة ثم ترمي البعرة على رأس الحول هي أربعة أشهر وعشرا
   سنن النسائى الصغرى3570زينب بنت عبد اللهكانت إحداكن ترمي بالبعرة على رأس الحول هي أربعة أشهر وعشرا
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم233زينب بنت عبد اللهإنما هي اربعة اشهر وعشر، وقد كانت إحداكن فى الجاهلية ترمي بالبعرة عند راس الحول
   بلوغ المرام950زينب بنت عبد اللهابنتي مات عنها زوجها وقد اشتكت عينها افنكحلها؟ قال لا
   مسندالحميدي306زينب بنت عبد اللهإن كانت إحداكن لترمي بالبعرة على رأس الحول وإنما هي الآن أربعة أشهر وعشر
   مسندالحميدي308زينب بنت عبد اللهلا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 233  
´سوگ صرف تین دن ہے`
«. . . أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث ليال، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا . . .»
. . . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے (اپنے) خاوند کے، اس پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے گی . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 233]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 5334 5337، ومسلم 1486 1489، من حديث مالك به]
[● من رواية يحيى بن يحيى وجاء فى الأصل: عَشْرًا! ** وفي رواية يحيى بن يحيى: وَالْحِفْشُ الْبَيْتُ الرَّدِئُ]
تفقه:
➊ عدت گزر جانے کے بعد عدت کی ممنوعات کو ختم کر دینا چاہئے۔
➋ ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے اگرچہ بظاہر کسی مشکل کا سامنا ہو۔
➌ حالت عدت میں آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سمیت کسی قسم کی زینت کی اجازت نہیں ہے۔ ➍ صحابیات اور صحابۂ کرام ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔
➎ اسلام عورت کے تحفظ اور عزت کا ضامن ہے۔
➏ عورت پر شوہر کی وفات پر ترکزینت دوران عدت فرض ہے جبکہ کسی اور کی وفات پر تین دن تک ترکِ زینت کرنا جائز ہے واجب نہیں۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کی وفات پر ایک دن بھی سوگ (ترک زینت) نہیں کیا۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5470، وصحيح مسلم 2144]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 318   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 233  
´سوگ صرف تین دن ہے`
«. . . أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث ليال، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے (اپنے) خاوند کے، اس پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے گی . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 233]

. . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 233]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 5334 5337، ومسلم 1486 1489، من حديث مالك به]
[● من رواية يحيى بن يحيى وجاء فى الأصل: عَشْرًا! ** وفي رواية يحيى بن يحيى: وَالْحِفْشُ الْبَيْتُ الرَّدِئُ]
تفقه:
➊ عدت گزر جانے کے بعد عدت کی ممنوعات کو ختم کر دینا چاہئے۔
➋ ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے اگرچہ بظاہر کسی مشکل کا سامنا ہو۔
➌ حالتِ عدت میں آنکھوں میں سُرمہ ڈالنے سمیت کسی قسم کی زینت کی اجازت نہیں ہے۔ ➍ صحابیات اور صحابۂ کرام ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔
➎ اسلام عورت کے تحفظ اور عزت کا ضامن ہے۔
➏ عورت پر شوہر کی وفات پر ترکِ زینت دورانِ عدت فرض ہے جبکہ کسی اور کی وفات پر تین دن تک ترکِ زینت کرنا جائز ہے واجب نہیں۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کی وفات پر ایک دن بھی سوگ (ترک زینت) نہیں کیا۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5470، وصحيح مسلم 2144]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 318   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 950  
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر وفات پا گیا ہے اور بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہو گئی ہے کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ فرمایا نہیں (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 950»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفي عنها أربعة أشهر وعشرًا، حديث:5336، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد....، حديث:1488.»
تشریح:
یہ حدیث دلیل ہے کہ سوگ منانے والی عورت کے لیے سرمے کا استعمال حرام ہے جبکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے فتویٰ پوچھا تو انھوں نے کہا: رات کے وقت لگا لو اور دن کے وقت اسے دھو ڈالو جیسا کہ موطا امام مالک وغیرہ میں ہے۔
(الموطأ للإمام مالک‘ الطلاق‘ باب ماجاء في الإحداد) اور ابوداود کے الفاظ ہیں: پس تو رات کو سرمہ لگا لے اور دن میں اسے دھو ڈال۔
(سنن أبي داود‘ الطلاق‘ حدیث: ۲۳۰۵) اس سے معلوم ہوا کہ رات کے وقت سرمہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ اس کی ضرورت ہو‘ تاہم اس کا ترک کرنا اولیٰ ہے۔
سرمے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ یہ خوبصورتی کا موجب ہے‘ لہٰذا اگر سرمہ سفید ہو جس میں زینت بھی نہ ہو تو دن کے اوقات میں بھی اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 950   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1197  
´شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان۔`
(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔‏‏‏‏ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: (اب تو اسلام میں) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے (فوت شدہ شوہر والی بیوہ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1197]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سال بھرکے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کا شوہرجب انتقال کرجاتا تو وہ ایک معمولی جھونپڑی میں جا رہتی اورخراب سے خراب کپڑاپہن لیتی تھی اورسال پورا ہو نے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی اور چیزکو ہاتھ لگاتی پھرکوئی جانور،
گدھا،
بکری،
یا پرندہ اس کے پاس لا یا جاتا اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرم گاہ کو رگڑتی اور جس جانورسے وہ رگڑتی عام طورسے وہ مرہی جاتا،
پھروہ اس تنگ وتاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی اس طرح گویا وہ اپنی نحوست دورکرتی اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے اجازت ملتی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1197   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2299  
´شوہر کی وفات پر بیوی کے سوگ منانے کا بیان۔`
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2299]
فوائد ومسائل:
1: (إحداد) کے لغوی معنی ہیں زیب وزینت چھوڑدینا اسی کو سوگ منانا کہا جا تاہے۔

2: جاہل لوگ اپنے کفر وشرک کی ریتوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں، لہذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی شریعت کی رضا ورغبت سے پابندی کریں۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2299   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.