صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں
The Book of Patients
2. بَابُ شِدَّةِ الْمَرَضِ:
2. باب: بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے)۔
(2) Chapter. The severity of disease.
حدیث نمبر: 5646
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش. ح حدثني بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي وائل، عن مسروق، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" ما رايت احدا اشد عليه الوجع من رسول الله صلى الله عليه وسلم".(مرفوع) حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان سے بیان کیا، ان سے اعمش نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے (مرض وفات کی تکلیف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی۔

Narrated Aisha: I never saw anybody suffering so much from sickness as Allah's Apostle.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 70, Number 549


   صحيح البخاري5646عائشة بنت عبد اللهما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله
   صحيح مسلم6557عائشة بنت عبد اللهما رأيت رجلا أشد عليه الوجع من رسول الله
   جامع الترمذي2397عائشة بنت عبد اللهما رأيت الوجع على أحد أشد منه على رسول الله
   سنن ابن ماجه1622عائشة بنت عبد اللهما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1622  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
اردو حاشہ:
فائده:
جان نکلنے کی سختی یا نرمی اور چیز ہے۔
اور بیماری کی وجہ سے جسم کا تکلیف محسوس کرنا اور چیز ہے۔
بعض اوقات مرض کی شدت کی وجہ سے وفات تک تکلیف رہتی ہے۔
یہ جسمانی تکلیف ہے۔
جس کا انسان کے نیک یا بد ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
جان نکلتے وقت فرشتوں کی سختی کی وجہ سے حاصل ہونے والی تکلیف کا تعلق روح سے ہے۔
اسے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی محسوس نہیں کرسکتے البتہ یہ تکلیف نیک لوگوں کو نہیں ہوتی۔
گناہ گاروں اور کافروں کو ان کے جرائم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1622   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2397  
´مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔`
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2397]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ ﷺدو چار ہوئے تھے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2397   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5646  
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ:
آپ کو اس قدر شدید بخار تھا کہ چادر مبارک بھی بہت سخت گرم ہو گئی تھی، بار بار غشی طاری ہوتی اور آپ بے ہوش ہو کر ہوش میں ہو جاتے پھر غشی طاری ہو جاتی اور وقت ہوش زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلتے (اللھم ألحقني بالرفیق الأعلیٰ صلی اللہ علیه وسلم۔
)

   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 5646   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5646  
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرض وفات کی حالت بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوتی، پھر ہوش میں آتے، پانی سے کپڑا تر کر کے ہونٹوں پر لگاتے اور کہتے:
موت کی بہت سختیاں ہیں۔
(2)
اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سخت تکلیفوں میں مبتلا کرتا ہے جن میں قوتِ یقین، کمالِ صبر اور ایمان کی بہت مضبوطی ہوتی ہے۔
وہ بیماری کو حصول ثواب اور بلندئ درجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، اس لیے جس قدر بیماری سخت ہو گی اسی قدر ثواب زیادہ ہو گا۔
واللہ المستعان
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 5646   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.