صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: غزوات کے بیان میں
The Book of Al- Maghazi
39. بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ:
39. باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
(39) Chapter. Ghazwa of Khaibar.
حدیث نمبر: 4212
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسماعيل، قال: حدثني اخي، عن سليمان، عن يحيى، عن حميد الطويل، سمع انس بن مالك رضي الله عنه،" ان النبي صلى الله عليه وسلم اقام على صفية بنت حيي بطريق خيبر ثلاثة ايام حتى اعرس بها، وكانت فيمن ضرب عليها الحجاب".(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا، وَكَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ".
ہم سے اسماعیل بن ابواویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے لیے خیبر کے راستہ میں تین دن تک قیام فرمایا اور آخری دن ان سے خلوت فرمائی اور وہ بھی امہات المؤمنین میں شامل ہو گئیں۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet stayed with Safiya bint Huyai for three days on the way of Khaibar where he consummated his marriage with her. Safiya was amongst those who were ordered to use a veil.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 5, Book 59, Number 523


   صحيح البخاري5086أنس بن مالكأعتق صفية وجعل عتقها صداقها
   صحيح البخاري5159أنس بن مالكأقام النبي بين خيبر والمدينة ثلاثا يبنى عليه بصفية بنت حيي دعوت المسلمين إلى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم أمر بالأنطاع فألقي فيها من التمر والأقط والسمن فكانت وليمته فقال المسلمون إحدى أمهات المؤمنين أو مما ملكت يمينه فقالوا إن
   صحيح البخاري4211أنس بن مالكبنى بها رسول الله صنع حيسا في نطع صغير ثم قال لي آذن من حولك فكانت تلك وليمته على صفية ثم خرجنا إلى المدينة فرأيت النبي يحوي لها وراءه بعباءة ثم يجلس عند بعيره فيضع ركبته وتضع صفية رجلها على ركبته حتى تركب
   صحيح البخاري5387أنس بن مالكقام النبي يبني بصفية دعوت المسلمين إلى وليمته أمر بالأنطاع فبسطت فألقي عليها التمر والأقط والسمن
   صحيح البخاري5169أنس بن مالكأعتق صفية وتزوجها وجعل عتقها صداقها
   صحيح البخاري4212أنس بن مالكأقام على صفية بنت حيي بطريق خيبر ثلاثة أيام حتى أعرس بها وكانت فيمن ضرب عليها الحجاب
   صحيح البخاري5085أنس بن مالكأقام النبي بين خيبر و المدينة ثلاثا يبنى عليه بصفية بنت حيي دعوت المسلمين إلى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم أمر بالأنطاع فألقى فيها من التمر والأقط والسمن فكانت وليمته فقال المسلمون إحدى أمهات المؤمنين أو مما ملكت يمينه فقالوا إن
   صحيح البخاري2235أنس بن مالكبنى بها ثم صنع حيسا في نطع صغير آذن من حولك فكانت تلك وليمة رسول الله على صفية ثم خرجنا إلى المدينة قال فرأيت رسول الله يحوي لها وراءه بعباءة ثم يجلس عند بعيره فيضع ركبته فتضع صفية رجلها على ركبته حتى تركب
   صحيح البخاري4201أنس بن مالكأصدقها نفسها فأعتقها
   صحيح البخاري4213أنس بن مالكأقام النبي بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية دعوت المسلمين إلى وليمته وما كان فيها من خبز ولا لحم وما كان فيها إلا أن أمر بلالا بالأنطاع فبسطت فألقى عليها التمر والأقط والسمن فقال المسلمون إحدى أمهات المؤمنين أو ما ملكت يمين
   صحيح مسلم3497أنس بن مالكأعتقها وتزوجها حتى إذا كان بالطريق جهزتها له أم سليم فأهدتها له من الليل فأصبح النبي عروسا من كان عنده شيء فليجئ به قال وبسط نطعا قال فجعل الرجل يجيء بالأقط وجعل الرجل يجيء بالتمر وجعل الرجل يجيء بالسمن فحاسوا حيسا فكانت وليمة رسول ال
   صحيح مسلم3498أنس بن مالكأعتق صفية وجعل عتقها صداقها
   صحيح مسلم3501أنس بن مالكصارت صفية لدحية في مقسمه وجعلوا يمدحونها عند رسول الله قال ويقولون ما رأينا في السبي مثلها قال فبعث إلى دحية فأعطاه بها ما أراد ثم دفعها إلى أمي فقال أصلحيها قال ثم خرج رسول الله من خيبر حتى إذا جعلها في ظهره نزل ثم ض
   جامع الترمذي1115أنس بن مالكأعتق صفية وجعل عتقها صداقها
   جامع الترمذي1095أنس بن مالكأولم على صفية بنت حيي بسويق وتمر
   سنن أبي داود2996أنس بن مالكصارت صفية لدحية الكلبي ثم صارت لرسول الله
   سنن أبي داود2995أنس بن مالكاصطفاها رسول الله لنفسه فخرج بها حتى بلغنا سد الصهباء حلت فبنى بها
   سنن أبي داود2998أنس بن مالكالنبي أعتقها وتزوجها
   سنن أبي داود2997أنس بن مالكاشتراها رسول الله بسبعة أرؤس ثم دفعها إلى أم سليم تصنعها وتهيئها وتعتد في بيتها صفية بنت حيي
   سنن أبي داود2054أنس بن مالكأعتق صفية وجعل عتقها صداقها
   سنن أبي داود3744أنس بن مالكأولم على صفية بسويق وتمر
   سنن النسائى الصغرى3383أنس بن مالكأقام على صفية بنت حيي بن أخطب بطريق خيبر ثلاثة أيام حين عرس بها ثم كانت فيمن ضرب عليها الحجاب
   سنن النسائى الصغرى3384أنس بن مالكأقام النبي بين خيبر والمدينة ثلاثا يبني بصفية بنت حيي دعوت المسلمين إلى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم أمر بالأنطاع وألقى عليها من التمر والأقط والسمن فكانت وليمته فقال المسلمون إحدى أمهات المؤمنين أو مما ملكت يمينه فقالوا إن حجبه
   سنن النسائى الصغرى3344أنس بن مالكأعتق صفية وجعله صداقها
   سنن النسائى الصغرى3345أنس بن مالكأعتق رسول الله صفية وجعل عتقها مهرها
   سنن ابن ماجه2272أنس بن مالكاشترى صفية بسبعة أرؤس
   سنن ابن ماجه1909أنس بن مالكأولم على صفية بسويق وتمر
   بلوغ المرام881أنس بن مالكاعتق صفية وجعل عتقها صداقها
   بلوغ المرام898أنس بن مالكاقام النبي بين خيبر والمدينة ثلاث ليال
   مسندالحميدي1218أنس بن مالكأولم على صفية بسويق وتمر؟
   مسندالحميدي1232أنس بن مالكالله أكبر الله أكبر، ورفع يديه خربت خيبر وإنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
   مسندالحميدي1234أنس بن مالكألا إن الله ورسوله ينهيانكم عنها، فإنها رجز من عمل الشيطان

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1909  
´ولیمہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1909]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔
اس شخص نے غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں سے کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرکین کی مدد کی تھی اور یہودیوں کے دوسرے قبیلے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسعد کو بھی عہد شکنی پر آمادہ کیا تھا۔
جنگ خندق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ کو ان کی عہد شکنی کی سزا دینے کے لیے ان کے قلعوں پر فوج کشی کی تو حیی بن اخطب بھی ان کی حمایت میں قلعہ بند ہو گیا، جب بنو قریظہ کے قلعے فتح ہوئے تو ان کے بالغ مردوں کو قتل کر دیا گیا اور حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ قتل ہوا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا خاوند کنانہ بن ابو الحقیق بھی جنگ خیبر میں اپنی بد عہدی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی قیدی عورتوں میں شامل کر لی گئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کے مشورے سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے منتخب فرما لیا۔
آپ نے ان پر اسلام پیش کیا تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
بعد میں نبی ﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیئے:
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، ص: 511)


(2)
ولیمے میں پکا ہوا کھانا ہونا ضروری نہیں۔
کوئی بھی چیز جو کسی معاشرے میں کھانے کے طور پر استعمال ہوتی ہو ولیمے کی مہمانی میں پیش کی جاسکتی ہے۔

(3)
لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا جائے تو اسے آزاد بیوی والے تمام حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1909   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 881  
´حق مہر کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 881»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب من جعل عتق الأمة صداقها، حديث:5086، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:(84)-1365 بعد الحديث:1427.»
تشریح:
1. یہ حدیث‘ غلامی سے آزادی کو مہر مقرر کرنے کی صحت کے بارے میں بالکل واضح ہے۔
جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے مگر انھوں نے اپنے موقف پر کوئی قابل اطمینان دلیل پیش نہیں کی۔
2. اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی منفعت کو مہر مقرر کرنا درست ہے کیونکہ آزادی بھی منفعت ہے، اور اس کی تائید میں وہ واقعہ بھی ہے جو پہلے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم قرآن کو مہر مقرر کیا تھا۔
گویا مالیت کے علاوہ دوسری چیزیں بھی حق مہر مقرر کی جا سکتی ہیں۔
امام احمد اور امام اسحٰق رحمہما اللہ وغیرہما کا یہی موقف ہے۔
وضاحت: «حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا» ‏‏‏‏ ام المومنین حضرت صفیہ‘ حُیَــي بـن أخـطب کی بیٹی تھیں۔
ان کا سلسلۂ نسب حضرت ہارون علیہ السلام برادر موسیٰ علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔
آپ اسی خانوادۂ رسالت سے تھیں۔
کنانہ بن ابی الحقیق کی زوجیت میں تھیں جو غزوۂ خیبر میں قتل ہوگیا تھا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قیدی بن گئیں۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے حرم کے لیے پسند فرمایا‘ پھر مسلمان ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور اسی آزادی کو مہر مقرر کیا۔
انھوں نے ۵۰ ہجری میں وفات پائی اور انھیں بقیع میں دفن کیا گیا۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 881   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2054  
´اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کے ثواب کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2054]
فوائد ومسائل:
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خیبر کے یہودی سردار حی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں۔
اورفتح خیبر کے موقع پر مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوگئی تھی۔
جب قیدی عورتیں جمع کی گیئں۔
تو حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریمﷺکی خدمت میں آکر عرض کیا۔
اے اللہ کے نبی ﷺمجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجئے۔
آپﷺ نےفرمایا جائو ایک لونڈی لے لو۔
انہوں نے جا کر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو منتخب کرلیا۔
اس پر ایک آدمی نے آپﷺ کے پا س آکر عرض کیا۔
اے اللہ کے نبیﷺ آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی سیدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا۔
حالانکہ صرف وہ آپ ﷺکے شایان شان ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا دحیہ کو صفیہ سمیت بلائو۔
حضرت وحیہ ان کو ساتھ لئے ہوئے حاضر ہوئے۔
آپ ﷺنے انھیں دیکھ کر حضرت وحیہ سے فرمایا قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لےلو۔
پھر آپ ﷺنے حضرت صفیہ پرالسلام پیش کیا۔
انہوں نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد آپ نے انہیں آزاد کرکے آپﷺنے ان سے شادی کرلی۔
اور ان کی آذادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
مدینہ واپسی میں صد صہبا پہنچ کر وہ حیض سے پاک ہوگئیں۔
اس کے بعد ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں آپﷺکےلئے آراستہ کیا۔
اور رات کو آپﷺکے پاس بھیج دیا۔
آپ ﷺنے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صُبح کی۔
اور کھجور اور گھی اور ستو ملا کر ولیمہ کھلایا۔
اور راستے میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔
اس موقع پر آپﷺنے ان کے چہرے پر ہرا نشان دیکھا دریافت فرمایا یہ کیا ہے۔
کہنے لگیں۔
یا رسول اللہ ﷺ آپ کے خیبر آنے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آکر گرا ہے۔
بخدا مجھے آپ ﷺکے معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔
لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا۔
تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو (الرحیق المختوم)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2054