صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
The Book of Asking Permission
8. بَابُ إِفْشَاءِ السَّلاَمِ:
8. باب: سلام کو زیادہ رواج دینا۔
(8) Chapter. To propagate As-Salam (greeting) (among people).
حدیث نمبر: 6235
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب رضي الله عنهما، قال:" امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع: بعيادة المريض، واتباع الجنائز، وتشميت العاطس، ونصر الضعيف، وعون المظلوم، وإفشاء السلام، وإبرار المقسم، ونهى عن الشرب في الفضة، ونهانا عن تختم الذهب، وعن ركوب المياثر، وعن لبس الحرير، والديباج، والقسي، والإستبرق".(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الضَّعِيفِ، وَعَوْنِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَنَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ، وَنَهَانَا عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْإِسْتَبْرَقِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، افشاء سلام (سلام کا جواب دینے اور بکثرت سلام کرنے) کا، قسم (حق) کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر (ریشم کی زین) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی (ریشمی کپڑا) اور استبرق پہننے سے (منع فرمایا تھا)۔

Narrated Al-Bara' bin 'Azib: Allah's Apostle ordered us to do seven (things): to visit the sick, to follow the funeral processions, to say Tashmit to a sneezer, to help the weak, to help the oppressed ones, to propagate As-Salam (greeting), and to help others to fulfill their oaths (if it is not sinful). He forbade us to drink from silver utensils, to wear gold rings, to ride on silken saddles, to wear silk clothes, Dibaj (thick silk cloth), Qassiy and Istabraq (two kinds of silk). (See Hadith No. 539, Vol. 7)
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 74, Number 253


   صحيح البخاري2445براء بن عازبأمرنا النبي بسبع ونهانا عن سبع فذكر عيادة المريض واتباع الجنائز وتشميت العاطس ورد السلام ونصر المظلوم وإجابة الداعي وإبرار المقسم
   صحيح البخاري5175براء بن عازببعيادة المريض واتباع الجنازة وتشميت العاطس وإبرار القسم ونصر المظلوم وإفشاء السلام وإجابة الداعي ونهانا عن خواتيم الذهب وعن آنية الفضة وعن المياثر والقسية والإستبرق والديباج
   صحيح البخاري6235براء بن عازبأمرنا رسول الله بسبع بعيادة المريض واتباع الجنائز وتشميت العاطس ونصر الضعيف وعون المظلوم وإفشاء السلام وإبرار المقسم ونهى عن الشرب في الفضة ونهانا عن تختم الذهب وعن ركوب المياثر وعن لبس الحرير والديباج والقسي
   صحيح البخاري6222براء بن عازبأمرنا بعيادة المريض اتباع الجنازة تشميت العاطس إجابة الداعي رد السلام نصر المظلوم إبرار المقسم نهانا عن سبع عن خاتم الذهب أو قال حلقة الذهب عن لبس الحرير الديباج السندس المياثر
   صحيح البخاري5849براء بن عازبعيادة المريض اتباع الجنائز تشميت العاطس نهانا عن سبع عن لبس الحرير الديباج القسي الإستبرق المياثر الحمر
   صحيح البخاري5635براء بن عازبأمرنا بعيادة المريض اتباع الجنازة تشميت العاطس إجابة الداعي إفشاء السلام نصر المظلوم إبرار المقسم نهانا عن خواتيم الذهب عن الشرب في الفضة أو قال آنية الفضة عن المياثر القسي عن لبس الحرير الديباج الإستبرق
   صحيح البخاري1239براء بن عازبأمرنا باتباع الجنائز وعيادة المريض وإجابة الداعي ونصر المظلوم وإبرار القسم ورد السلام وتشميت العاطس ونهانا عن آنية الفضة وخاتم الذهب والحرير والديباج والقسي والإستبرق
   صحيح مسلم5388براء بن عازببعيادة المريض اتباع الجنازة تشميت العاطس إبرار القسم أو المقسم نصر المظلوم إجابة الداعي إفشاء السلام نهانا عن خواتيم أو عن تختم بالذهب عن شرب بالفضة عن المياثر عن القسي عن لبس الحرير الإستبرق الديباج
   جامع الترمذي2809براء بن عازبباتباع الجنازة عيادة المريض تشميت العاطس إجابة الداعي نصر المظلوم إبرار القسم رد السلام نهانا عن سبع عن خاتم الذهب أو حلقة الذهب آنية الفضة لبس الحرير الديباج الإستبرق القسي
   سنن النسائى الصغرى1941براء بن عازبأمرنا رسول الله بسبع ونهانا عن سبع أمرنا بعيادة المريض وتشميت العاطس وإبرار القسم ونصرة المظلوم وإفشاء السلام وإجابة الداعي واتباع الجنائز ونهانا عن خواتيم الذهب وعن آنية الفضة وعن المياثر والقسية والإستبرق والحرير
   سنن النسائى الصغرى3809براء بن عازبأمرنا باتباع الجنائز وعيادة المريض وتشميت العاطس وإجابة الداعي ونصر المظلوم وإبرار القسم ورد السلام
   المعجم الصغير للطبراني998براء بن عازب الذى يشرب فى آنية الذهب والفضة إنما يجرجر فى بطنه نار جهنم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6235  
6235. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا بیمار کی تیمارداری کرنے کا جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینک لینے والے کو جواب دینے کا ناتواں کی مدد کرنے کا، مظلوم کی داد رسی کرنے کا بکثرت سلام کہنے کا اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنے کا، نیزآپ نے ہمیں چاندی کے برتنوں میں پانی پینے، سونے کی انگوٹھی پہننے، ریشم کی زین پر سوار ہونے، ریشم اور دیبا پہننے، باریک اور موٹا ریشم زیب تن کرنے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6235]
حدیث حاشیہ:
یہ سماجی شرعی آداب ہیں جن کا ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 6235   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6235  
6235. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا بیمار کی تیمارداری کرنے کا جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینک لینے والے کو جواب دینے کا ناتواں کی مدد کرنے کا، مظلوم کی داد رسی کرنے کا بکثرت سلام کہنے کا اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنے کا، نیزآپ نے ہمیں چاندی کے برتنوں میں پانی پینے، سونے کی انگوٹھی پہننے، ریشم کی زین پر سوار ہونے، ریشم اور دیبا پہننے، باریک اور موٹا ریشم زیب تن کرنے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6235]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں سلام کو عام کرنے کا حکم ہے کیونکہ اس سے اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص قضائے حاجت میں مصروف ہو تو اسے سلام نہیں کہنا چاہیے۔
حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں سلام کیا جب آپ پیشاب کے لیے بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
(جامع الترمذی، الطھارۃ، حدیث: 90) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں سلام نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی جہالت کی بنا پر سلام کہہ دے تو اس کے سلام کا جواب نہ دیا جائے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح آہستہ اور احتیاط سے سلام کہتے تھے کہ بیدار آدمی اسے سن لیتا اور سونے والا اس سے بیدار نہ ہوتا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5362(2055)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کرنے والے کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے سلام سے کسی سونے والے کی آنکھ نہ کھل جائے یا اس سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔
(3)
بہرحال سلام کہنا ایک اسلامی شعار ہے۔
اسے خوب پھیلانا چاہیے اور ایسی کثرت سے رواج دیا جائے کہ اسلامی دنیا کی فضا اس کی دلربا آواز سے گونج اٹھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ سلام کو عام کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسے گھر میں جائے جہاں کوئی بھی نہیں ہے تو اپنے آپ کو سلام کہہ کر اس میں داخل ہو۔
(فتح الباري: 25/11)
واللہ اعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 6235   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.