الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
ایمان کے احکام و مسائل
8. باب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيُؤْمِنُوا بِجَمِيعِ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَصَمَ نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهَا وَوُكِّلَتْ سَرِيرَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَقِتَالِ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ أَوْ غَيْرَهَا مِنْ حُقُوقِ الْإِسْلَامِ وَاهْتِمَامِ الْإِمَامِ بِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ 
8. باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 125
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيى ، واحمد بن عيسى ، قال احمد حدثنا، وقال الآخران: اخبرنا ابن وهب ، قال: اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: حدثني سعيد بن المسيب ، ان ابا هريرة اخبره، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فمن قال: لا إله إلا الله، عصم مني، ماله، ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله ".وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لاالہ الااللہکے قائل ہو جائیں، چنانچہ جو لاالہ الا اللہکا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، الا یہ کہ اس (اقرار) کا حق ہو، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کی شہادت دیں، جس نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ لیا، اس کے میری طرف سے مال و جان محفوظ ہو گئے، إلا یہ کہ اس کا (کلمہ) حق ہو اور اس کا مواخذہ اللہ تعالیٰ کرے گا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 21

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي فى ((المجتبي)) 6/5 فى الجهاد، باب وجوب الجهاد - انظر ((التحفة)) برقم ((13344)» ‏‏‏‏

   صحيح البخاري6924عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   صحيح البخاري2946عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني نفسه وماله إلا بحقه وحسابه على الله
   صحيح البخاري7285عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   صحيح البخاري0عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   صحيح مسلم124عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   صحيح مسلم125عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   جامع الترمذي2607عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله ومن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   جامع الترمذي2606عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها منعوا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن أبي داود2640عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها منعوا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن أبي داود1556عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3975عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3976عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها فقد عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن النسائى الصغرى3092عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3977عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3978عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3979عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قالها فقد عصم مني نفسه وماله إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3980عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها
   سنن النسائى الصغرى3093عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني نفسه وماله إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى2445عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3981عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها منعوا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن النسائى الصغرى3983عبد الرحمن بن صخرنقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن النسائى الصغرى3095عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها
   سنن النسائى الصغرى3094عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن النسائى الصغرى3097عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قالها فقد عصم مني نفسه وماله إلا بحقه وحسابه على الله
   سنن ابن ماجه3927عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
   سنن ابن ماجه71عبد الرحمن بن صخرأمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث71  
´ایمان کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
اردو حاشہ:
(1)
اللہ کی راہ میں جنگ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم کرنا ہے۔

(2)
کسی شخص کے اسلام میں واقعی داخل ہو جانے کا ثبوت تین چیزیں ہیں:

        توحید و رسالت کا اقرار کرنا،
        نماز باقاعدی سے ادا کرنا
      اور اسلام کے مالی حق یعنی زکاۃ کی ادائیگی کرنا۔

(3)
مذکورہ بالا آیات اور حدیث میں اسلام کے صرف تین ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ (اقرار شہادتین، نماز اور زکاۃ)
اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتین کے بغیر تو اسلام میں داخل ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
نماز ایسی اجتماعی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر ہر حال میں ادا کرنا فرض ہے، اس لیے اسے اسلام اور کفر کے درمیان امتیازی علامت قرار دیا گیا ہے اور زکاۃ اگرچہ صرف مال داروں پر فرض ہے لیکن اسلامی حکومت دولت مندوں سے اس کی وصولی اور ناداروں میں اس کی تقسیم کا جس طرح اہتمام کرتی ہے، اس بنا پر یہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں واضح امتیاز کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ زکاۃ صرف مسلمانوں سے لی جاتی ہے اور مسلمانوں ہی میں تقسیم کی جاتی ہے۔

(4)
اس حدیث میں دو ارکان (روزہ اور حج)
کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے اگر ایک شخص بغیر روزہ رکھے اپنے آپ کو روزے دار باور کرانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔
اور حج اول تو سب مسلمانوں پر فرض ہی نہیں، دوسرے صاحب استطاعت افراد پر بھی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔
علاوہ ازیں جس قوم کے خلاف جنگ کی جا رہی ہو وہ اگر روزہ رکھنے اور حج کرنے کا اقرار بھی کریں تو اس کے عملی اظہار کے لیے انہیں خاص مہینوں کا انتظار کرنا پڑے گا، لہذا جنگ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ایسے کاموں سے قائم کرنا حکمت کے منافی ہے۔
واللہ أعلم.
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 71   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2606  
´جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ (جہاد) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، اور ان کا (مکمل) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2606]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کی جان اور ان کا مال صرف اسی وقت لیا جائے گا جب وہ قول و عمل سے اپنے آپ کو اس کا مستحق اور سزاوار بنا دیں،
مثلاً کسی نے کسی کو قتل کردیا تو ایسی صورت میں مقتول کے ورثاء اسے قتل کریں گے یا اس سے دیت لیں گے۔

2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک آفاقی اورعالمگیر مذہب ہے،
اس کا مقصد دنیا سے تاریکی،
گمرا ہی اورظلم وبربریت کا خاتمہ ہے،
ساتھ ہی لوگوں کو ایک اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانا اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرنا ہے،
دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ جو اسلام کو اپنے گلے سے لگالے اس کی جان مال محفوظ ہے،
البتہ جرائم کے ارتکاب پراس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے،
وہ اپنے مال سے زکاۃ ادا کرے گا،
کسی مسلمان کو ناجائز قتل کردینے کی صورت میں اگر ورثاء اسے معاف نہ کریں اور نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا،
یہ بھی معلوم ہواکہ اس کے ظاہری حالات کے مطابق اسلامی احکام کا اجراء ہوگا،
اس کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2606   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2640  
´کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2640]
فوائد ومسائل:

اسلام بنی نوع انسان کے لئے امن سلامتی کا دین ہے۔
اس کی دعوت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کے اس دنیا میں کائنات کے خالق ومالک کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
اور نہ کرنے دی جائے۔
اسی اصل بنیاد پرمنکرین سے حسب احوال وظروف قتال کا حکم ہے۔
جس کی معلوم ومعروف شرطیں اور آداب ہیں جواس کتاب الجہاد اور کتب فقہ اسلامی میں محفوظ ہیں۔


اگر کوئی قوم اسلام قبول کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کو اہل اسلام کی اطاعت قبول کرنی ہوگی۔
اور جزیہ دینا ہوگا۔


اسلام میں اقرار توحید اور اقرار رسالت محمد رسول اللہ ﷺ کو مستلزم ہے۔
اس کے بغیر توحید کا اقرار قابل قبول نہیں، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2640   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.