الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
19. باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1293
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب جميعا، عن ابن علية ، قال زهير: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن خالد ، عن ابي قلابة ، عن ابي المهلب ، عن عمران بن حصين ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، صلى العصر، فسلم في ثلاث ركعات، ثم دخل منزله، فقام إليه رجل، يقال له: الخرباق، وكان في يديه طول، فقال: يا رسول الله، فذكر له صنيعه، وخرج غضبان، يجر رداءه، حتى انتهى إلى الناس، فقال: اصدق هذا؟ قالوا: نعم، " فصلى ركعة، ثم سلم، ثم سجد سجدتين، ثم سلم ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ، يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، " فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
) اسماعیل بن ابراہیم نے خالد (حذاء) سے، انھوں نے ابو قلابہ سے، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو (سہو) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ غصے کی حالت میں، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیردیا، پھر اپنے گھر جانے لگے تو آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپصلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر کھینچتے ہوئے نکلے، حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ گئے۔ اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو سجدے (سہو کے لیے) کیے، پھر سلام پھیرا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 574

   صحيح مسلم1293عمران بن الحصينصلى ركعة ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم
   صحيح مسلم1294عمران بن الحصينصلى الركعة التي كان ترك ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو ثم سلم
   جامع الترمذي395عمران بن الحصينصلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم
   سنن أبي داود1039عمران بن الحصينصلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم
   سنن أبي داود1018عمران بن الحصينأقصرت الصلاة يا رسول الله فخرج مغضبا يجر رداءه فقال أصدق قالوا نعم فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتيها
   سنن ابن ماجه1215عمران بن الحصينصلى تلك الركعة التي كان ترك ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1237عمران بن الحصينصلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1238عمران بن الحصينأصدق قالوا نعم فقام فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتيها ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1332عمران بن الحصينصلى ثلاثا ثم سلم فقال الخرباق إنك صليت ثلاثا فصلى بهم الركعة الباقية ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو ثم سلم
   بلوغ المرام265عمران بن الحصين إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر كم صلى أثلاثا أم أربعا ؟ فليطرح الشك وليبن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته وإن كان صلى تماما كانتا ترغيما للشيطان

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1018  
´سجدہ سہو کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1018]
1018۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث میں دلیل ہے کہ سہو کے واقعات مختلف تھے۔
➋ جب فوت شدہ رکعت یا رکعات پڑھنی پڑھانی ہوں گی تو اس کے لئے تکبیر تحریمہ بھی ہو گی۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1018   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1039  
´سجدہ سہو کر کے تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1039]
1039. اردو حاشیہ:
اس میں سجدہ سہو کے سجدوں کے بعد تشہد پڑھنے اور پھر سلام پھیرنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کی رو سے اس کا بھی جواز ہے۔ تاہم شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شاذ قرار دیا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1039   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1215  
´دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1215]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:

(1)
حدیث 1207 میں بیان ہوا ہے کہ وہ نماز ظہر کی تھی۔
صحیح بخاری کی ایک روایت سے بھی اس کی تایئد ہوتی ہے۔ (صحیح البخاري، الأذان، باب ھل یأخذ الإمام إذا شك بقول الناس، حدیث: 715)

(2)
مذکورہ بالا روایات میں مذکور ہے۔
کہ رسول اللہﷺنے چار کے بجائے دو رکعتیں ادا کیں تھیں۔
تین نہیں۔
یہ روایات زیادہ صحیح ہیں تاہم اس معمولی اختلاف کے باجود اصل مسئلہ ثابت ہے کہ بھول کررکعتیں کم پڑھی جایئں تو معلوم ہونے پر باقی نماز پڑھ کرسجدہ سہو کیا جائےگا۔
پوری نماز دہرانے کی ضرورت نہیں چاہے امام اور مقتدیوں کے درمیان گفتگو بھی ہوجائے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1215   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 265  
´سجود سہو وغیرہ کا بیان`
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کو جب نماز میں یہ شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار؟ تو ایسی صورت میں شک کو نظرانداز کر کے جس پر یقین ہو اس پر نماز کی بنا رکھے۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے (چھٹی رکعت کے قائم مقام ہو کر) اس کی نماز کو جفت کر دیں گے۔ (چھ بنا دیں گے) اور اگر اس نے پوری نماز پڑھی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 265»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ماجاء في التشهد في سجدتي السهو، حديث:1039، والترمذي، الصلاة، حديث:395، والحاكم:1 /323، وأعل بما لا يقدح، وألله اعلم.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اسے کم پر بنیاد رکھنی چاہیے۔
اس میں یقین کا امکان ہے۔
امام مالک‘ امام شافعی‘ امام احمد رحمہم اللہ اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے‘ البتہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نماز میں شک واقع ہونے کی صورت میں اسے تحری کرنی چاہیے‘ یعنی یاد کرنے کی انتہائی کوشش کرے‘ اگر گمان غالب کسی طرف ہو جائے تو اس پر عمل کرے اور اگر تحری کے باوجود دونوں اطراف مساوی نظر آئیں تو پھر کم پر بنیاد رکھے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 265   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 395  
´سجدہ سہو میں تشہد پڑھنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 395]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حدیث میں تشہد کا تذکرہ شاذ ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 395   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1293  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز کی اصلاح و درستگی کے بارے میں کی گئی گفتگو سے پہلی نماز باطل نہیں ہوتی،
صرف رہ جانے والی نماز پڑھنی پڑتی ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 1293   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.