الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
34. باب أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلاَحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا:
34. باب: مجمع یا بازار میں ہتھیار لے جائے تو اس کی احتیاط رکھے۔
حدیث نمبر: 6661
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، قال إسحاق: اخبرنا، وقال ابو بكر: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عمرو ، سمع جابرا ، يقول: مر رجل في المسجد بسهام، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " امسك بنصالها ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بِسِهَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ".
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک شخص چند تیر لے کر مسجد میں سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان تیروں کو ان کی نوکوں (کی طرف سے) پکڑو۔"
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی مسجد سے تیرلے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:"تیروں کے پیکان کو پکڑلو۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2614

   صحيح البخاري7073جابر بن عبد اللهأمسك بنصالها
   صحيح البخاري451جابر بن عبد اللهأمسك بنصالها
   صحيح البخاري7074جابر بن عبد اللهيأخذ بنصولها لا يخدش مسلما
   صحيح مسلم6662جابر بن عبد اللهيأخذ بنصولها كي لا يخدش مسلما
   صحيح مسلم6663جابر بن عبد اللهرجلا كان يتصدق بالنبل في المسجد أن لا يمر بها إلا وهو آخذ بنصولها
   صحيح مسلم6661جابر بن عبد اللهأمسك بنصالها
   سنن أبي داود2586جابر بن عبد اللهلا يمر بها إلا وهو آخذ بنصولها
   سنن النسائى الصغرى719جابر بن عبد اللهخذ بنصالها
   سنن ابن ماجه3777جابر بن عبد اللهأمسك بنصالها
   مسندالحميدي1289جابر بن عبد اللهأمسك بنصالها؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 719  
´مسجد میں ہتھیار نکالنے کا بیان۔`
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں کچھ تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی پیکان پکڑ کر رکھو، تو عمرو نے کہا: جی ہاں (سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 719]
719 ۔ اردو حاشیہ: تفصیلی روایت میں ہے کہ اس نے تیروں کو نوکوں کی جانب سے ننگا کیا ہوا تھا۔ خطرہ تھا کہ وہ کسی کو لگ نہ جائیں، اس لیے آپ نے فرمایا: تیروں کی نوکوں کو پکڑ لو تاکہ نقصان نہ پہنچائیں۔ گویا مسجد میں اسلحہ لایا جا سکتا ہے مگر بند حالت میں تاکہ کسی کو اتفاقاً لگ نہ جائے۔ اگرچہ اسلحے سے پرہیز ہی بہتر ہے کیونکہ اسلحے کی موجودگی میں اشتعال آ جائے تو اسے چلایا جا سکتا ہے جس سے بہت بڑا فساد رونما ہونے کا خطرہ ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 719   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3777  
´تیر کا پیکان ہاتھ میں لے کر نکلنے کا بیان۔`
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی پیکان (نوک و پھل) تھام لو، انہوں نے کہا: ہاں (سنا ہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3777]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر آدمی کے پاس کوئی نوک دار چیز ہو تو دوسروں کے کے پاس سے گزرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ نادانستہ طور پر کسی کو نہ لگ جائے۔

(2)
نصال (پیکان)
سے مراد تیر کا وہ نو کیلا حصہ ہے جو لو ہے کا بنا ہوا ہوتا ہے اور شکار کو لگ کر اسے زخمی کرتا ہے۔

(3)
تیز چھری اور قینچی وغیرہ کی نوک بھی کسی کو چبھ سکتی ہے۔
گدھا گاڑی، بیل گاڑی، یا ٹرک وغیرہ پر لدا ہوا سامان بھی اگر اس قسم کا ہو کہ کسی گزرنے والے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہو تو لازمی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

(4)
رائفل، گن اور کلا شنکوف وغیرہ لوڈ کر کے نہیں رکھنی چاہیے، نہ اس حالت میں انہیں لے کر بازار، مسجد یا ایسی جگہ جانا چاہیے جہاں لوگ جمع ہوں تا کہ اتفاقی طور پر حا دثہ نہ ہو جائے۔

(5)
حدیث کے آخر میں یہ جملہ ہے:
(قال نعم)
بعض علماء نے ترجمہ کرتے وقت اسے صحابی کا قول سمجھ کر ترجمہ کیا ہے:
وہ بولا بہت خوب یا اس نے کہا:
بہت اچھا۔
اصل میں یہ حضرت عمر و بن دینار رحمہ اللہ کا کلام ہے کہ جب ان سے ان کے شاگرد سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا:
آپ نے حضرت جابر ؓ سے یہ حدیث سنی ہے؟ تو عمرو بن دینار نے فرمایا:
ہاں (سنی ہے۔)
یہ روایت حدیث کا ایک طریقہ ہے کہ شاگرد حدیث پڑھ کر استاد کو سنائے اور استاد تصدیق کرے کہ یہ حدیث اسی طرح ہے۔
اسے محدثین کی اصطلاح میں عرض کہتے ہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3777   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.