مسند الحميدي کل احادیث 1337 :حدیث نمبر
مسند الحميدي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
حدیث نمبر: 108
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
108 - حدثنا الحميدي، ثنا سفيان قال: ثنا الاعمش، عن ابي وائل، عن عبد الله قال: قيل: يا رسول الله انؤاخذ بما كان منا في الجاهلية؟ فقال «من احسن منكم لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية، ومن اساء اخذ بالاول والآخر» 108 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كَانَ مِنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ «مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ»
108- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانۂ جاہلیت میں ہم سے جو کچھ سرزد ہوا تھا کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اچھائی کرے گا، تو زمانۂ جاہلیت میں اس نے جو عمل کیا تھا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا اور جو شخص برائی کرے گا، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہوگا۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 6921، ومسلم: 120، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5071، 5113، 5131، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 396»

   صحيح البخاري6921عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية ومن أساء في الإسلام أخذ بالأول والآخر
   صحيح مسلم318عبد الله بن مسعودمن أحسن منكم في الإسلام فلا يؤاخذ بها ومن أساء أخذ بعمله في الجاهلية والإسلام
   صحيح مسلم319عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية ومن أساء في الإسلام أخذ بالأول والآخر
   سنن ابن ماجه4242عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما كان في الجاهلية ومن أساء أخذ بالأول والآخر
   مسندالحميدي108عبد الله بن مسعودمن أحسن منكم لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية، ومن أساء أخذ بالأول والآخر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:108  
108- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! زمانۂ جاہلیت میں ہم سے جو کچھ سرزد ہوا تھا کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اچھائی کرے گا، تو زمانۂ جاہلیت میں اس نے جو عمل کیا تھا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا اور جو شخص برائی کرے گا، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہوگا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:108]
فائدہ:
اس حدیث میں نیک اعمال کی اہمیت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، خواہ وہ کفر کی حالت میں ہی کیے جائیں یا اسلام کی حالت میں، اور برے اعمال کی مذمت ثابت ہوتی ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں کیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو مٹا دیتا ہے۔ (صـحـيـح مـسـلـم: 121) اور زمانہ جاہلیت میں سرزد ہونے والے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی زمانہ جاہلیت والے برے اعمال ترک نہیں کرتا تو ایسے شخص نے حقیقت میں اسلام قبول نہیں کیا، دل سے مخلص نہیں ہے، اس لیے اس کے دونوں زمانوں (زمانہ کفر اور زمانہ اسلام) کے گناہوں کا مواخذہ ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر کوئی انسان مسلمان ہو جائے اور خلوص دل سے مسلمان ہو لیکن انسان ہونے کے ناطے اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے گناہ سے توبہ کر لے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، وہ چاہے تو اس کو معاف کر دے، یا چاہے تو عذاب دے۔
   مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث\صفحہ نمبر: 108   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.