صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: باغیوں اور مرتدوں سے توبہ کرانے کا بیان
The Book of Obliging The Apostates and The Repentance of Those Who Refuse The Truth Obstinately, and To Fight Against Such People
1. بَابُ إِثْمِ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ:
1. باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ لقمان میں) فرمایا «إثم من أشرك بالله وعقوبته في الدنيا والآخرة» ۔
(1) Chapter. The sin of the person who ascribes partners in worship to Allah, and his punishment in this world and in the Hereafter.
حدیث نمبر: 6921
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي وائل، عن ابن مسعود رضي الله عنه، قال:" قال رجل: يا رسول الله، انؤاخذ بما عملنا في الجاهلية؟، قال: من احسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية، ومن اساء في الإسلام اخذ بالاول والآخر".(مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے منصور اور اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا ایک شخص (نام نامعلوم) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ (اسلام لانے سے پہلے) جاہلیت کے زمانہ میں کیے ہیں کیا ان کا مواخذہ ہم سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہ ہو گا (اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا) اور جو شخص مسلمان ہو کر بھی برے کام کرتا رہا اس سے دونوں زمانوں کے گناہوں کا مواخذہ ہو گا۔

Narrated Ibn Mas`ud: A man said, "O Allah's Apostle! Shall we be punished for what we did in the Prelslamic Period of ignorance?" The Prophet said, "Whoever does good in Islam will not be punished for what he did in the Pre-lslamic Period of ignorance and whoever does evil in Islam will be punished for his former and later (bad deeds).
USC-MSA web (English) Reference: Volume 9, Book 84, Number 56


   صحيح البخاري6921عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية ومن أساء في الإسلام أخذ بالأول والآخر
   صحيح مسلم318عبد الله بن مسعودمن أحسن منكم في الإسلام فلا يؤاخذ بها ومن أساء أخذ بعمله في الجاهلية والإسلام
   صحيح مسلم319عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية ومن أساء في الإسلام أخذ بالأول والآخر
   سنن ابن ماجه4242عبد الله بن مسعودمن أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما كان في الجاهلية ومن أساء أخذ بالأول والآخر
   مسندالحميدي108عبد الله بن مسعودمن أحسن منكم لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية، ومن أساء أخذ بالأول والآخر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6921  
´حقیقی مسلمان بنا کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں`
«. . . قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ . . .»
. . . ایک شخص (نام نامعلوم) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ (اسلام لانے سے پہلے) جاہلیت کے زمانہ میں کیے ہیں کیا ان کا مواخذہ ہم سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہ ہو گا (اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا) اور جو شخص مسلمان ہو کر بھی برے کام کرتا رہا اس سے دونوں زمانوں کے گناہوں کا مواخذہ ہو گا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ: 6921]

فہم الحديث:
اس حدیث کا مفہوم جو محققین کی جماعت نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے ظاہر و باطن کے ساتھ اسلام قبول کیا اور حقیقی مسلمان بنا، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «الإِسْلَامَ يَهْدِمُ، ‏‏‏‏‏‏مَا كَانَ قَبْلَهُ» [مسلم: 121]
اور جس نے بظاہر تو اسلام قبول کیا مگر دل سے اسلام قبول نہ کیا تو یہ شخص منافق ہے اور اپنے کفر پر باقی ہے، اس سے اظہار اسلام کے بعد کے گناہوں کے ساتھ ساتھ جاہلیت کے گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا۔ [شرح مسلم للنوي: 200/2]
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 75   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4242  
´گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے (زمانہ) جاہلیت میں کئے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے (دل سے اسلام لے آیا) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے، (کفر پر قائم رہا ہے) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4242]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے۔
اسلام سے پہلے (گناہوں)
کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، الإیمان، باب کون الأسلام یھدم ما قبله۔
۔
۔
، حدیث: 121)

جو شخص خلوص دل کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے۔
اس کے جاہلیت کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

(2)
جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی جاہلیت کی عادتیں اور بداعمالیاں ترک نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دل سے اسلام قبول نہیں کیا۔
اس لئے اس کے سابقہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔

(3)
جو شخص خلوص سے اسلام قبول کرتا ہے۔
پھر اس سے بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے۔
اس سے زمانہ کفر کے اعمال کا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
کیونکہ مسلمان کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہوجاتا۔
جن صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ایسے گناہ سر زد ہوئے۔
ان پر حد نافذ ہوئی نبی کریمﷺ نے ان کا جنازہ پڑھا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔

(4)
مسلمان کو صحیح مسلمان بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاکہ اس کے گناہ معاف ہوجایئں اوراسے جنت میں اعلیٰ مقام حاصل ہوجائے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4242   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6921  
6921. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانہ جاہلیت میں کیے ہیں کہ ان کا مؤاخذہ بھی ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے پہلے اور بعد والے دونوں گناہوں کے متعلق باز پرس ہوگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6921]
حدیث حاشیہ:
معلوم یہ ہوا کہ اسلام جاہلیت کے تمام برے کاموں کو مٹاتا ہے۔
اسلام لانے کے بعد جاہلیت کا کام نہ کرے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 6921   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6921  
6921. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانہ جاہلیت میں کیے ہیں کہ ان کا مؤاخذہ بھی ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے پہلے اور بعد والے دونوں گناہوں کے متعلق باز پرس ہوگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6921]
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام لانے ست دور جاہلیت کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے:
اسلام، پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 321(121)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔
(الأنفال8: 38)
اس صورت حال کے پیش نظر حدیث بالا کا یہ مفہوم ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی اگر کوئی گناہوں پر اصرار کرتا رہے تو اسے زمانۂ کفر کے گناہوں پر شرمندگی دلائی جائے گی، گویا اسے کہا جائے گا:
تونے ایسا ایسا نہیں کیا تھا جبکہ تو کافر تھا، اسلام لانے کے بعد ان گناہوں سے باز کیوں نہ آیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد جو گناہ ہوں گے ان پر مؤاخذہ ہوگا اور اس سے پہلے جو گناہ سرزد ہوئے تھے، ان پر شرمندگی دلائی جائے گی۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں اساءت کا مفہوم مرتد ہو جانا ہے کیونکہ اسلام لانے کے بعد سب سے بڑا گناہ کفر اختیار کرنا ہے۔
اگر کسی کو اسی حالت میں موت آگئی تو اس سے تمام گناہوں کا مؤاخذہ ہوگا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسی امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ انھوں نے اس حدیث کو اکبر الکبائر پر مشتمل حدیث کے بعد ذکر کیا ہے، اور مذکورہ تمام احادیث کو مرتدین کے عنوان میں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 333/12) (3)
علامہ کرمانی لکھتے ہیں کہ اسلام میں اساءت کے یہ معنی ہیں کہ اس کا اسلام صحیح نہ ہو، یا اس کا ایمان خالص نہ ہو بلکہ اس میں منافقت پائی جائے۔
(عمدة القاري: 196/16)
ہمارے رجحان کے مطابق اسلام میں اساءت سے مراد دین سے ارتداد ہے، اور اسلام میں احسان سے مراد، اس پر ہمیشگی ودوام اور ترک معاصی (گناہ)
ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 6921   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.