سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
Chapters on Tribulations
34. بَابُ : خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ
34. باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حدیث نمبر: 4083
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا نصر بن علي الجهضمي , حدثنا محمد بن مروان العقيلي , حدثنا عمارة بن ابي حفصة , عن زيد العمي , عن ابي صديق الناجي , عن ابي سعيد الخدري , ان النبي صلى الله عليه وسلم , قال:" يكون في امتي المهدي , إن قصر فسبع وإلا فتسع , فتنعم فيه امتي نعمة لم ينعموا مثلها قط , تؤتى اكلها ولا تدخر منهم شيئا , والمال يومئذ كدوس , فيقوم الرجل فيقول: يا مهدي اعطني , فيقول: خذ".
(مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ , إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ , فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ , تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا , وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ , فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي , فَيَقُولُ: خُذْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے) ۱؎۔

تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/الفتن 53 (2232)، (تحفة الأشراف: 3976)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المھدي 1 (4285)، مسند احمد (3/21، 26) (حسن) (سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔

قال الشيخ الألباني: حسن

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2232)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522

   جامع الترمذي2232سعد بن مالكفي أمتي المهدي يخرج يعيش خمسا أو سبعا أو تسعا قال قلنا وما ذاك قال سنين يجيء إليه رجل فيقول يا مهدي أعطني أعطني قال فيحثي له في ثوبه ما استطاع أن يحمله
   سنن ابن ماجه4083سعد بن مالكفي أمتي المهدي إن قصر فسبع وإلا فتسع تنعم فيه أمتي نعمة لم ينعموا مثلها قط تؤتى أكلها ولا تدخر منهم شيئا والمال يومئذ كدوس فيقوم الرجل فيقول يا مهدي أعطني فيقول خذ

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4083  
´مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4083]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
ان محققین کی تحقیقی بحث پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت کم از کم حسن لغیرہ ضرور بن جاتی ہے جو کہ محدثین کے ہاں قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الروض النضير: 647 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكتور بشار عوادرقم: 4083)

(2)
مہدی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی آل میں سے ایک نیک آدمی ہوگا جس کا نام نبیﷺ کے نام پر (محمد)
اور اس کے والد کا نام نبیﷺ کے والد کے نام پر (عبداللہ)
ہوگا۔
اس کے سات سالہ دور حکومت میں مکمل امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، الفتن باب ماجاء في المهدي، حديث: 2231 وسنن أبي داؤد، كتاب المهدي، حديث: 4282)

(2)
ماضی میں بعض لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو درست نہیں تھا۔
اسی وجہ سے جدید دور کے بعض افراد نے مہدی کا انکار شروع کردیا ہے۔
یہ طرز عمل درست نہیں۔
جھوٹے کی تردید کرتے ہوئے سچے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4083   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.