سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: فضائل و مناقب
Chapters on Virtues
66. باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ
66. باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 3902
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا علي بن زيد بن جدعان، حدثنا النضر بن انس، عن زيد بن ارقم، انه كتب إلى انس بن مالك يعزيه فيمن اصيب من اهله وبني عمه يوم الحرة، فكتب إليه: إني ابشرك ببشرى من الله، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " اللهم اغفر للانصار , ولذراري الانصار , ولذراري ذراريهم ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا علي بن زيد بن جدعان، حدثنا النضر بن انس، وقد رواه قتادة، عن النضر بن انس، عن زيد بن ارقم.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ , وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ , وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 43 (2506) (تحفة الأشراف: 3686) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: حرّہ کا دن اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ۶۳ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی، (عفا اللہ عنہ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ حرّہ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام یوم الحرّۃ پڑ گیا۔
۲؎: یعنی: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت شامل ہے، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

   صحيح مسلم6414زيد بن أرقماللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار وأبناء أبناء الأنصار
   جامع الترمذي3902زيد بن أرقماللهم اغفر للأنصار ولذراري الأنصار ولذراري ذراريهم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3902  
´انصار اور قریش کے فضائل کا بیان`
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3902]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حرّہ کادن اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ 63ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت وتاراج کیا تھا،
اس میں بہت سے صحابہ وتابعین کی جانیں چلی گئی تھیں،
یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی،
(عفااللہ عنہ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ حرّہمیں ہوا تھا اس لیے اس کا نام یوم الحرّۃ پڑ گیا۔

2؎:
یعنی: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبیﷺکی دعا کی برکت شامل ہے،
اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے،
ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3902   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.