الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
جمعہ کے احکام و مسائل
18. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:
18. باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2038
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير . ح وحدثنا عمرو الناقد ، وابو كريب ، قالا: حدثنا وكيع ، عن سفيان ، كلاهما، عن سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كان منكم مصليا بعد الجمعة، فليصل اربعا ". وليس في حديث جرير: منكم.وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: مِنْكُمْ.
جریر اور سفیان نے سہیل سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد نماز پڑھے توچار رکعتیں پڑھے۔" جریر کی حدیث میں "منکم" (تم میں سے) کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: تم میں سے کوئی جب جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چار رکعت پڑھے۔ جریر کی حدیث میں مِنكُم (تم میں سے) کا لفظ نہیں ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
   سنن النسائى الصغرى1427عبد الرحمن بن صخرإذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
   صحيح مسلم2036عبد الرحمن بن صخرإذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
   صحيح مسلم2037عبد الرحمن بن صخرإذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا
   صحيح مسلم2038عبد الرحمن بن صخرمن كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا
   جامع الترمذي523عبد الرحمن بن صخرمن كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا
   سنن أبي داود1131عبد الرحمن بن صخرإذا صليتم الجمعة فصلوا بعدها أربعا
   سنن ابن ماجه1132عبد الرحمن بن صخرإذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا
   مسندالحميدي1006عبد الرحمن بن صخرأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي بعد الجمعة أربعا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1131  
´فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1131]
1131. اردو حاشیہ:
یہ تلقین ترغیب اور استحباب کے لیے ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1131   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1132  
´جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1132]
اردو حاشہ:
فائدہ:
معلوم ہوا کہ جمعے کی فرض نماز کے بعد دو رکعت سنت بھی اد ا کی جاسکتی ہے۔
اور چار رکعت بھی اور بعض نے ان دونوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے۔
کہ مسجد میں پڑھے تو چارسنتیں پڑھے۔ (دو دو کرکے یا بہ یک سلام)
اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ (مرعاۃ)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1132   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2038  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہیے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی نظریہ ہے۔
امام اسحاق کا قول ہے مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے اور اگر گھر میں پڑھے تو دو پڑھ لے شاہ ولی اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے دو پڑھ لے یا چار۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 2038   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.