وحدثني ابو بكر بن نافع العبدي ، حدثنا بهز ، حدثنا حماد بن سلمة ، عن ثابت ، عن انس : ان نفرا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم سالوا ازواج النبي صلى الله عليه وسلم عن عمله في السر، فقال بعضهم: لا اتزوج النساء، وقال بعضهم: لا آكل اللحم، وقال بعضهم: لا انام على فراش، فحمد الله واثنى عليه، فقال: " ما بال اقوام قالوا: كذا وكذا لكني اصلي، وانام، واصوم، وافطر، واتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي، فليس مني ".وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ، فقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں رضی اللہ عنہن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خفیہ عبادت کا حال پوچھا۔ یعنی جو عبادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کرتے تھے اور پھر ایک نے ان میں سے کہا کہ میں کبھی عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا: میں کبھی گوشت نہ کھاؤں گا۔ کسی نے کہا: میں کبھی بچھونے پر نه سوؤں گا۔ سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی یعنی خطبہ پڑھا اور فرمایا: ”کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا تو یہ حال ہے کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں یعنی رات کو اور سو بھی جاتا ہوں، اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جو میرے طریقہ سے بے رغبتی کرے وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔“
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 145
´اس کا نام اسلام ہے` «. . . عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ ثَلَاثَة رَهْط إِلَى بيُوت أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أخبروا كَأَنَّهُمْ تقالوها فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أحدهم أما أَنا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْل أبدا وَقَالَ آخر أَنا أَصوم الدَّهْر وَلَا أفطر وَقَالَ آخر أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مني» . . .» ”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی کیفیت ان سے دریافت کریں جب ان لوگوں کو آپ کی عبادت کا حال بتایا گیا تو اس کو یہ لوگ کم اور بہت معمولی سمجھ کر آپس میں کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ہم لوگ کہاں ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب قصوروں کو معاف فرما دیا ہے۔ (آپ کی معمولی عادت بھی کافی ہے) ان میں سے ایک نے کہا: میں ساری رات نماز ہی پڑھتا رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ دن کو روزہ ہی رکھتا رہوں گا اور کبھی روزہ نہیں توڑوں گا۔ تیسرے نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے الگ رہوں گا کبھی بھی شادی نہیں کروں گا۔ (ان کی آپس میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے (ان کی ان باتوں کو سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی ایسا ایسا کہا ہے، بہرحال میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اللہ سے تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار بھی ہوں، لیکن اس کے باوجود روزہ رکھتا ہوں اور افطار کرتا ہوں“ اور نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ یہ سب میرا دستور و طریقہ ہے اور جو میرے ان دستور سے اعراض کرے گا وہ میرے طریقے پر نہیں ہو گا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“[مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 145]
تخریج: [صحيح بخاري 5063]، [صحيح مسلم 3403]
فقہ الحدیث: ➊ ہمیشہ سنت پر عمل اور بدعات سے مکمل اجتناب کرنا چاہئیے۔ ➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے جان بوجھ کر منہ پھیرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا مخالف ہے۔ ➌ دین اسلام میں رہبانیت اور کلیتاً ترک دنیا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث قیامت تک ہر دور میں حجت ہے۔ ➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے بالکل معصوم ہونے کے باوجود کثرت سے عبادت کرتے تھے۔ ➏ بہتر سے بہتر عمل کی تلاش اور تحقیق میں مسلسل مصروف رہنا چاہئیے۔ ➐ کتاب و سنت کے خلاف ہر بات کا رد کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔ ➑ اگر کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو کوشش کر کے بڑے عالم کے پاس جا کر پوچھنا چاہئے۔ ➒ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد ہو، اسے اجتہادی غلطی لگ سکتی ہے، لہذا دین اسلام میں تقلید کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ➓ یہ تین آدمی کون تھے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کی وضاحت نہیں ہے۔ ◄ اس سلسلے میں فتح الباری [105، 104/9] وغیرہ میں مذکور سارے اقوال غیر ثابت ہیں۔