صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حدود کا بیان
5. باب مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا:
5. باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 4432
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير وتقاربا في لفظ الحديث، حدثنا ابي ، حدثنا بشير بن المهاجر ، حدثنا عبد الله بن بريدة ، عن ابيه " ان ماعز بن مالك الاسلمي اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إني قد ظلمت نفسي وزنيت وإني اريد ان تطهرني، فرده فلما كان من الغد اتاه، فقال: يا رسول الله، إني قد زنيت، فرده الثانية، فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قومه، فقال: اتعلمون بعقله باسا تنكرون منه شيئا؟، فقالوا: ما نعلمه إلا وفي العقل من صالحينا، فيما نرى، فاتاه الثالثة، فارسل إليهم ايضا، فسال عنه فاخبروه انه لا باس به ولا بعقله، فلما كان الرابعة حفر له حفرة، ثم امر به فرجم، قال: فجاءت الغامدية، فقالت: يا رسول الله، إني قد زنيت فطهرني وإنه ردها، فلما كان الغد، قالت: يا رسول الله، لم تردني لعلك ان تردني كما رددت ماعزا فوالله إني لحبلى، قال: إما لا فاذهبي حتى تلدي، فلما ولدت اتته بالصبي في خرقة، قالت: هذا قد ولدته، قال: اذهبي فارضعيه حتى تفطميه، فلما فطمته اتته بالصبي في يده كسرة خبز، فقالت: هذا يا نبي الله قد فطمته وقد اكل الطعام، فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين، ثم امر بها فحفر لها إلى صدرها وامر الناس، فرجموها، فيقبل خالد بن الوليد بحجر فرمى راسها فتنضح الدم على وجه خالد فسبها، فسمع نبي الله صلى الله عليه وسلم سبه إياها، فقال: مهلا يا خالد فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له "، ثم امر بها فصلى عليها ودفنت.وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَزَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَرَدَّهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَرَدَّهُ الثَّانِيَةَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِهِ بَأْسًا تُنْكِرُونَ مِنْهُ شَيْئًا؟، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا وَفِيَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِينَا، فِيمَا نُرَى، فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَيْضًا، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَلَا بِعَقْلِهِ، فَلَمَّا كَانَ الرَّابِعَةَ حَفَرَ لَهُ حُفْرَةً، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَجَاءَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَطَهِّرْنِي وَإِنَّهُ رَدَّهَا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تَرُدُّنِي لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى، قَالَ: إِمَّا لَا فَاذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ، قَالَتْ: هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ، قَالَ: اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ، فَرَجَمُوهَا، فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ: مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ "، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ.
بُشیر بن مہاجر نے حدیث بیان کی، کہا: عبداللہ بن بریدہ نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے (گناہ کی آلودگی سے) پاک کر دیں۔ آپ نے انہیں واپس بھیج دیا، جب اگلا دن ہوا، وہ آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ تو آپ نے دوسری بار انہیں واپس بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: "کیا تم جانتے ہو کہ ان کی عقل میں کوئی خرابی ہے، (ان کے عمل میں) تمہیں کوئی چیز غلط لگتی ہے؟" تو انہوں نے جواب دیا: ہمارے علم میں تو یہ پوری عقل والے ہیں، جہاں تک ہمارا خیال ہے۔ یہ ہمارے صالح افراد میں سے ہیں۔ وہ آپ کے پاس تیسری بات آئے تو آپ نے پھر ان کی طرف (اسی طرح) پیغام بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان میں اور ان کی عقل میں کوئی خرابی نہیں ہے، جب چوتھی بار ایسا ہوا تو آپ نے ان کے لیے ایک گڑھا کھدوایا، پھر ان (کو رجم کرنے) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ کہا: اس کے بعد غامد قبیلے کی عورت آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھے پاک کیجئے۔ آپ نے اسے واپس بھیج دیا، جب اگلا دن ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے واپس کیوں بھیجتے ہیں؟ شاید آپ مجھے بھی اسی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں جیسے ماعز کو بھیجا تھا، اللہ کی قسم! میں حمل سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: "اگر نہیں (مانتی ہو) تو جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دے دو۔" کہا: جب اس نے اسے جنم دیا تو بچے کو ایک بوسیدہ کپڑے کے ٹکڑے میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: یہ ہے، میں نے اس کو جنم دے دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: "جاؤ، اسے دودھ پلاؤ حتی کہ تم اس کا دودھ چھڑا دو۔" جب اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچے کو لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی، اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور اس نے کھانا بھی کھا لیا ہے۔ (ابھی اس کی مدت رضاعت باقی تھی۔ ایک انصاری نے اس کی ذمہ داری اٹھا لی) تو آپ نے بچہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی (اس انصاری) کے حوالے کیا، پھر اس کے لیے (گڑھا کھودنے کا) حکم دیا تو سینے تک اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر مارا، خون کا فوارہ پھوٹ کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برا بھلا کہنے کو سن لیا تو آپ نے فرمایا: "خالد! ٹھہر جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا (جو ظلما لاتعداد انسانوں کا حق کھاتا ہے) ایسی توبہ کرے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے۔" پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا
حضرت بریدہ رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے اوپر ظلم کر چکا ہوں، میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، جب اگلا دن آیا، وہ پھر آیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ واپس کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا، کیا تم اس کی عقل میں کچھ فتور محسوس کرتے ہو یا اس میں کوئی قابل اعتراخ بات پاتے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا، ہمارے علم میں، اس میں پوری عقل ہے، ہمارے اچھے افراد میں سے ہے، ہماری معلومات یہی ہیں تو وہ سہ بارہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پھر پیغام بھیجا اور اس کے بارے میں پوچھا، اس کی قوم نے آپ کو بتایا، اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور نہ اس کی عقل میں فتور ہے تو جب چوتھی بار آیا، اس کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، حضرت بریدہ رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں، اس کے بعد آپ کے پاس ایک غامدیہ قبیلہ کی عورت آئی اور کہنے لگی، اللہ کے رسول! میں زنا کر چکی ہوں تو مجھے پاک کر دیجئے اور آپ نے اسے واپس کر دیا تو جب اگلا دن آیا، اس نے کہا، اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے واپس کیوں لوٹاتے ہیں، شاید آپصلی اللہ علیہ وسلم مجھے ماعز کی طرح واپس لوٹانا چاہتے ہیں، اللہ کی قسم! میں تو حاملہ ہو چکی ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں اصرار ہے تو جاؤ حتی کہ تم بچہ جنو۔ تو جب اس نے بچہ جنا، وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور کہا، یہ بچہ میں جن چکی ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوٹ جائے۔ تو جب اس نے اس کا دودھ چھڑوایا، وہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچہ لے کر آئی، اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی، اے اللہ کے نبی! میں اس کا دودھ چھڑا چکی ہوں اور یہ کھانا کھانے لگ گیا ہے تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ ایک مسلمان کے حوالہ کیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے لیے اس کے سینہ تک گڑھا کھودا گیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوگوں نے اسے رجم کر دیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ پتھر لے کر آگے بڑھتے ہیں اور اس کے سر پر مارتے ہیں اور خون حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرہ پر پڑتا ہے، وہ اسے برا بھلا کہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کا اس کو برا بھلا کہنا سن لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک جاؤ، اے خالد! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے اس قدر سچی توبہ کی ہے، اگر ناجائز طور پر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے معافی مل جائے۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا اور نماز پڑھا کر اسے دفن کر دیا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1695
   صحيح مسلم4432عامر بن الحصيبظلمت نفسي وزنيت وإني أريد أن تطهرني فرده فلما كان من الغد أتاه فقال يا رسول الله إني قد زنيت فرده الثانية فأرسل رسول الله إلى قومه فقال أتعلمون بعقله بأسا تنكرون منه شيئا فقالوا ما نعلمه إلا وفي العقل من صالحينا فيما نرى فأتاه ال
   صحيح مسلم4431عامر بن الحصيبماعز بن مالك إلى النبي فقال يا رسول الله طهرني فقال ويحك ارجع فاستغفر الله وتب إليه قال فرجع غير بعيد ثم جاء فقال يا رسول الله طهرني فقال رسول الله ويحك ارجع فاستغفر الله وتب إليه قال فرجع غير بعيد ثم جاء
   سنن أبي داود4442عامر بن الحصيبفجرت فقال ارجعي فرجعت فلما أن كان الغد أتته فقالت لعلك أن تردني كما رددت ماعز بن مالك فوالله إني لحبلى فقال لها ارجعي فرجعت فلما كان الغد أتته فقال لها ارجعي حتى تلدي فرجعت فلما ولدت أتته بالصبي فقالت هذا قد ولدته فقال لها ارجعي فأرضعيه حتى تفطميه
   سنن أبي داود4433عامر بن الحصيباستنكه ماعزا
   بلوغ المرام445عامر بن الحصيبثم امر بها فصلي عليها ودفنت

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 445  
´جسے شرعی حد لگی ہوا اور وہ جاں بحق ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی`
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے غامدیہ کے قصہ میں مروی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارتکاب زنا کی پاداش میں رجم و سنگساری کا حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا پھر خود اس کی جنازہ پڑھی اور اسے دفن کیا گیا۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 445]
لغوي تشريح:
«فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ» غامد کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے انہیں غامدیہ کہا جاتا ہے جو کہ قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ تھی۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ اس خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اعتراف کیا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے، لہٰذا نبی صلى الله عليه وسلم نے بچے کی ولادت اور مدت رضاعت مکمل ہو جانے کے بعد اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ رجم کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کو پتھروں سے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔
«فَصَّلّٰي عَلَيْهَا» اکثر شارحین کے نزدیک یہ معروف کا صیغہ ہے اور بعض کے نزدیک صیغہ مجہول ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس کی دلیل ہے کہ جسے شرعی حد لگی ہوا اور وہ جاں بحق ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ارواء الغليل، حديث: 2323 ونيل الاوطار، باب الصلاة على من قتل فى حد]
➋ صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود غامدیہ کی نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔ کبیرہ گناہوں کا ارتکا ب کرنے والے، مثلاً خودکشی کرنے اور زنا وغیرہ کرنے والے کے بارے میں قاضی عیاض نے کہا ہے کہ علماء کے نزدیک ان کا جنازہ پڑھا جائے گا، البتہ امام مالک رحمہ الله فرماتے ہیں کہ امام (کبیر) اور مفتی کو فاسق کا جنازہ پڑھانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ فساق کو اس سے عبرت حاصل ہو۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 445   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4433  
´ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کا منہ سونگھا (اس خیال سے کہ کہیں اس نے شراب نہ پی ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4433]
فوائد ومسائل:
ازخود اقراری کے لئے یہ یقین کرلینا ضروری ہے کہ کہیں نشےمیں نہ ہو۔
اس سےیہ بھی معلوم ہوا کہ نشے اور بے ہوشی کے اعمال معتبر نہیں ہوتے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4433   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4432  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کی قوم انہیں اپنے بہتر افراد میں شمار کرتی تھی،
قوم کی اس صریح شہادت کے باوجود صاحب تدبر قرآن کا،
اس کو نہایت بدخصلت غنڈہ قرار دینا اور اس کی مغفرت کے لیے پہلے دن دعا نہ کرنے کو اس کے کٹر منافق ہونے کی شہادت قرار دینا ایک عملی بددیانتی اور خیانت ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے دن اس کے لیے دعائے مغفرت کروائی ہے اور اس کی توبہ کی تعریف بھی کی ہے۔
(2)
فَلَمَّا كَانَ الغَد:
یہاں بھی بشیر بن مہاجر دوسری روایات کی مخالفت کرتے ہیں،
باقی روایات سے ثابت ہے واپسی اور اعتراف،
ایک ہی مجلس میں ہوا ہے،
اس کو اگلے دن قرار دینا وہم ہے۔
(3)
حُفِرَلَهَا إِلَي صَدْرِهَا:
غامدیہ کے لیے اس کے سینہ تک گڑھا کھودا،
اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کو رجم کرتے وقت گڑھا کھودا جائے گا،
گڑھا کھودنے کے بارے میں ائمہ کے مندرجہ ذیل نظریات ہیں،
امام نووی لکھتے ہیں،
امام مالک،
امام ابو حنیفہ اور امام احمد کے نزدیک ان حضرات کے مشہور قول کے مطابق مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کے لیے گڑھا نہیں کھودا جائے گا،
قتادہ،
ابو ثور،
ابو یوسف اور امام ابو حنیفہ کے ایک قول کے مطابق دونوں کے لیے گڑھا کھودا جائے گا اور بعض مالکیہ کے نزدیک،
ثبوت بینہ کی صورت میں گڑھا کھودا جائے گا اور اقرار کی صورت میں نہیں،
شوافع کے نزدیک مرد کے لیے کسی صورت میں گڑھا نہیں کھودا جائے گا اور عورت کے بارے میں تین اقوال ہیں،
(1)
پردہ پوش کے لیے سینے تک گڑھا کھودا مستحب ہے۔
(2)
امام کو اختیار ہے۔
(3)
زنا،
بینہ سے ثابت ہوا ہے تو کھودنا بہتر ہے اور اگر اقرار سے ثابت ہے تو نہیں کھودا جائے گا،
علامہ تقی نے لکھا ہے کہ احناف کا مختار موقف یہ ہے کہ عورت کے لیے گڑھا کھودا جائے گا اور مرد کے لیے نہیں کھودا جائے گا،
امام نووی نے جو لکھا ہے وہ احناف کے اکثر کتابوں کے مخالف ہیں،
(تکملہ،
ج 2،
ص 451)

۔
اس روایت میں ماعز کے لیے گڑھا کھودنے کا مسئلہ بھی راوی کا وہم ہے،
اگر گڑھا کھودا ہوتا تو وہ بھاگ کیسے گئے۔
(4)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ 8ھ ماہ صفر میں مسلمان ہو کر مدینہ آئے ہیں،
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ غامدیہ کا واقعہ سورہ نور کے نزول کے بعد پیش آیا ہے کیونکہ سورہ نور 5 یا 1 ہجری میں اتری ہے اور جمہور فقہاء کے نزدیک اخبار آحاد سے قرآنی حکم کی تخصیص جائز ہے کیونکہ وہ بیان ہے فسخ نہیں ہے اور احناف کے نزدیک مشہور اور متواتر روایات سے تخصیص جائز ہے اور احادیث رجم معنی متواتر ہیں،
امام ابن ھمام اور علامہ آلوسی اور شاہ ولی اللہ نے اس کی تصریح کی ہے اور حدیث 52 صحابہ سے مروی ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھئے،
تکملہ،
ج 2،
ص 420 تا 423)
(5)
لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مكس:
اگر اس قسم کی توبہ ظلما ٹیکس وصول کرنے والا کرتا تو اس کو بھی معافی مل جاتی،
اس سے ثابت ہوتا ہے،
ظلما،
چنگی،
محصول یا ٹیکس وصول کرنا بہت بڑا جرم اور گناہ ہے جو تباہی و ہلاکت کا باعث ہے،
کیونکہ بے شمار لوگوں سے بار بار وصول کیا جاتا ہے اور اس کو عیش و عشرت کے کاموں میں لٹا دیا جاتا ہے۔
(6)
فَصلي عَلَيْهَا:
بعض حضرات نے اس کو مجہول کا صیغہ بنایا ہے اور اس کی بناء پر امام مالک اور امام احمد کے نزدیک امام اور اصحاب علم و فضل مرجوم کا (جس کو رجم کیا گیا ہے)
جنازہ نہیں پڑھیں گے،
لیکن عام طور پر اس کو معروف کا صیغہ قرار دیا گیا ہے،
اس لیے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک،
سب جنازہ میں شریک ہوں گے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 4432   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.