الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
The Chapters on Manumission (of Slaves)
8. بَابُ : مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ
8. باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
Chapter: One Who Frees A Slave Who Has Some Wealth
حدیث نمبر: 2529
Save to word اعراب
حدثنا حرملة بن يحيى ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن لهيعة ، ح وحدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا سعيد بن ابي مريم ، انبانا الليث بن سعد جميعا، عن عبيد الله بن ابي جعفر ، عن بكير بن الاشج ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من اعتق عبدا وله مال، فمال العبد له إلا ان يشترط السيد ماله فيكون له"، وقال ابن لهيعة: إلا ان يستثنيه السيد.
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ"، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے)۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/العتق 11 (3962)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 17 (2379)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
   سنن أبي داود3962عبد الله بن عمرمن أعتق عبدا وله مال فمال العبد له إلا أن يشترطه السيد
   سنن ابن ماجه2529عبد الله بن عمرمن أعتق عبدا وله مال فمال العبد له إلا أن يشترط السيد ماله فيكون له

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2529  
´جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا۔‏‏‏‏ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام طور پرغلام کے تصرف میں جو مال ہوتا ہے وہ آقا کا ہی ہوتا ہے جو وہ اسے اس کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دیتا ہے۔
اس صورت میں جب غلام آزاد ہو گا تو مالک کا جومال اس تصرف میں تھا وہ مالک ہی لے گا۔

(2)
بعض اوقات ایسا ہی ہو سکتا ہے آقا غلام کو اجازت دے کہ وہ محنت مزدوری کرکے جتنی رقم حاصل ہو اس سے اتنی رقم مجھے دے دیا کروں باقی جس طرح چاہو تم استعمال کرو اس صورت میں غلام کی جمع کی بچت غلام کی ملکیت ہوگئی۔
اور اگرغلام آزاد کیا گیا تو یہ رقم وہ اپنے پاس رکھے گا آقا کو واپس نہیں کرے گا۔

(3)
اگر آقا مرتے وقت یوں کہے کہ میں تجھے اس شرط پرآزاد کرتا ہوں کہ تمہارے پاس جو مال ہے وہ مجھے دو گے تو وہ ادا کرنا پڑے گا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2529   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.