سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
The Book on Zakat
38. باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
38. باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 680
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن بيان بن بشر، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لان يغدو احدكم فيحتطب على ظهره فيتصدق منه فيستغني به عن الناس، خير له من ان يسال رجلا اعطاه او منعه ذلك، فإن اليد العليا افضل من اليد السفلى، وابدا بمن تعول ". قال: وفي الباب عن حكيم بن حزام، وابي سعيد الخدري، والزبير بن العوام، وعطية السعدي، وعبد الله بن مسعود، ومسعود بن عمرو، وابن عباس، وثوبان، وزياد بن الحارث الصدائي، وانس، وحبشي بن جنادة، وقبيصة بن مخارق، وسمرة، وابن عمر. قال ابو عيسى: حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح غريب، يستغرب من حديث بيان، عن قيس.حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَوْبَانَ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَأَنَسٍ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے،
۳- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الزکاة 35 (1042)، (تحفة الأشراف: 14293) (صحیح) أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 50 (470)، و53 (1480)، والبیوع 15 (2074)، والمساقاة 13 (2374)، وسنن النسائی/الزکاة 83 (2585)، و85 (2590)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة 25 (1836)، وط/الصدقة 2 (10)، و مسند احمد (2/243، 257، 300، 418، 475، 496) من غیر ہذا الطریق عنہ»

وضاحت:
۱؎: عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت وحاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کرے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔
۲؎: اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (834)
   صحيح البخاري2374عبد الرحمن بن صخريحتطب أحدكم حزمة على ظهره خير له من أن يسأل أحدا فيعطيه أو يمنعه
   صحيح البخاري1480عبد الرحمن بن صخريأخذ أحدكم حبله ثم يغدو أحسبه قال إلى الجبل فيحتطب فيبيع فيأكل ويتصدق خير له من أن يسأل الناس
   صحيح البخاري2074عبد الرحمن بن صخريحتطب أحدكم حزمة على ظهره خير له من أن يسأل أحدا فيعطيه أو يمنعه
   صحيح البخاري1470عبد الرحمن بن صخريأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا فيسأله أعطاه أو منعه
   صحيح مسلم2400عبد الرحمن بن صخريغدو أحدكم فيحطب على ظهره فيتصدق به ويستغني به من الناس خير له من أن يسأل رجلا أعطاه أو منعه ذلك اليد العليا أفضل من اليد السفلى ابدأ بمن تعول
   صحيح مسلم2402عبد الرحمن بن صخريحتزم أحدكم حزمة من حطب فيحملها على ظهره فيبيعها خير له من أن يسأل رجلا يعطيه أو يمنعه
   جامع الترمذي680عبد الرحمن بن صخريغدو أحدكم فيحتطب على ظهره فيتصدق منه فيستغني به عن الناس خير له من أن يسأل رجلا أعطاه أو منعه اليد العليا أفضل من اليد السفلى ابدأ بمن تعول
   سنن النسائى الصغرى2590عبد الرحمن بن صخريأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا أعطاه الله من فضله فيسأله أعطاه أو منعه
   سنن النسائى الصغرى2585عبد الرحمن بن صخريحتزم أحدكم حزمة حطب على ظهره فيبيعها خير من أن يسأل رجلا فيعطيه أو يمنعه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم599عبد الرحمن بن صخرالذي نفسي بيده، لياخذ احدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من ان ياتي رجلا اعطاه الله من فضله فيساله، اعطاه او منعه
   مسندالحميدي367عبد الرحمن بن صخراسمعي مني يا بنت آل قيس، إنما السكنى والنفقة للمرأة إذا كان لزوجها عليها رجعة، فإذا لم يكن له عليها رجعة فلا سكنى لها ولا نفقة
   مسندالحميدي1087عبد الرحمن بن صخرلأن يأخذ أحدكم حبله، فيحتطب به، ثم يجيء به على ظهره، فيبيعه فيأكله أو يتصدق به، خير له من أن يأتي رجلا قد أغناه الله من فضله فيسأله، أعطاه أو منعه ذلك، فإن اليد العليا خير من اليد السفلى

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 599  
´ضرورت کے بغیر مانگنا جائز نہیں ہے`
«. . . 371- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: والذي نفسي بيده، ليأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا أعطاه الله من فضله فيسأله، أعطاه أو منعه. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی رسی لے، پھر لکڑیاں اکھٹی کر کے اپنی پیٹھ پر (رکھ کر) لے آئے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جا کر مانگے جسے اللہ نے اپنے فضل (مال) سے نواز رکھا ہو۔ وہ اسے دے یا دھتکار دے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 599]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1470، من حديث مالك به * وفي رواية يحييٰ بن يحييٰ: لَأَنْ يَأْخُذَ]

تفقه:
➊ بہترین رزق وہی ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں اور محنت سے کمائے۔
➋ شرعی عذر کے بغیر لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 371   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 680  
´دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 680]
اردو حاشہ:
1؎:
عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت و حاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کر ے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔

2؎:
اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 680   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.