سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: فضائل و مناقب
Chapters on Virtues
42. باب مَنَاقِبِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رضى الله عنه
42. باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3820
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا معاوية بن عمرو الازدي، حدثنا زائدة، عن بيان، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال: " ما حجبني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت ولا رآني إلا ضحك ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
36171 - D 3820 - U

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الجھاد 162 (3035)، وفضائل الأنصار 21 (3822)، والأدب 68 (6090)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 29 (2475)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (159) (تحفة الأشراف: 3224) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی، منع نہیں کیا، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (159)
   صحيح البخاري3822جرير بن عبد اللهما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك
   صحيح مسلم6363جرير بن عبد اللهاحجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك
   صحيح مسلم6364جرير بن عبد اللهما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم في وجهي
   جامع الترمذي3821جرير بن عبد اللهما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم
   جامع الترمذي3820جرير بن عبد اللهما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3820  
´جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3820]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپﷺ نے اجازت دیدی،
منع نہیں کیا،
اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں،
اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے،
ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دیدینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3820