صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ذكر الملائكة:
باب: فرشتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي جِبْرِيلُ:" مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، أَوْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام کہہ گئے ہیں کہ تمہاری امت کا جو آدمی اس حالت میں مرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا ہو گا، تو وہ جنت میں داخل ہو گا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔ خواہ اس نے اپنی زندگی میں زنا کیا ہو، خواہ چوری کی ہو، اور خواہ زنا اور چوری کرتا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3222]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرئیل علیہ السلام نے کہا ہے: آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں فوت ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا یا (فرمایا کہ) وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کا ارتکاب کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ وہ چوری اور زنا کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنَ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلَاثًا، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا، قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا"، وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، اس نے کہا کہ میرے باپ نے قتادہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سہ بارہ) فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول، تین بار ایسا ہوا۔ (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ کی) آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر تم یہ خبر سناؤ گے) تو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے) معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 128]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر پیچھے بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» ”سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» ”میں حاضر ہوں۔“ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی سچے دل سے یہ گواہی دے کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں“ تو اللہ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں میں اس کی تشہیر نہ کروں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کرے گا تو انہیں اسی پر بھروسا ہو جائے گا۔“ پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے (اپنی وفات کے قریب، کتمان علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے یہ حدیث لوگوں کو بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمُعَاذِ:"مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ، قَالَ: لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے اس کیفیت کے ساتھ ملاقات کرے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، وہ (یقیناً) جنت میں داخل ہو گا، معاذ بولے، یا رسول اللہ! کیا میں اس بات کی لوگوں کو بشارت نہ سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، مجھے خوف ہے کہ لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 129]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے بایں حالت ملے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ہو گا تو وہ یقیناً جنت میں داخل ہو گا۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس بات کی بشارت نہ سنا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر بھروسا کر بیٹھیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ،" أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، وَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِينِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَّنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ: فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ فَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ أَوِ ابْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، تَقُلْ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور غزوہ بدر کے حاضر ہونے والوں میں سے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! میری بینائی میں کچھ فرق آ گیا ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں لیکن جب برسات کا موسم آتا ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان جو وادی ہے وہ بھر جاتی ہے اور بہنے لگ جاتی ہے اور میں انہیں نماز پڑھانے کے لیے مسجد تک نہیں جا سکتا یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان سے فرمایا، انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا۔ عتبان نے کہا کہ (دوسرے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب دن چڑھا تو دونوں تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا کہ تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو۔ عتبان نے کہا کہ میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس جگہ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور صف باندھی پس آپ نے دو رکعت (نفل) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ عتبان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عتبان نے کہا کہ محلہ والوں کا ایک مجمع گھر میں لگ گیا اور مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ مالک بن دخشن یا (یہ کہا) ابن دخشن دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر کسی دوسرے نے کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے جسے اللہ اور رسول سے کوئی محبت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ایسا مت کہو، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور دوستی منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے «لا إله إلا الله» کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔ ابن شہاب نے کہا کہ پھر میں نے محمود سے سن کر حصین بن محمد انصاری سے جو بنوسالم کے شریف لوگوں میں سے ہیں (اس حدیث) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ محمود سچا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 425]
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ میں سے ہیں جو شریکِ بدر تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بینائی جاتی رہی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں، لیکن بارش کی وجہ سے جب وہ نالہ بہنے لگتا ہے جو میرے اور ان کے درمیان ہے تو میں نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتا، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز قرار دے لوں، راوی کہتا ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ جلد ہی ایسا کروں گا۔“ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے روز دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میرے اجازت دینے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے اور بیٹھنے سے پہلے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں؟“ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک کونے کی نشان دہی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہی، ہم صف بستہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اور اس کے بعد سلام پھیر دیا، پھر ہم نے کچھ حلیم تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا، اس کے بعد اہل محلہ میں سے کئی آدمی گھر میں آ کر جمع ہو گئے، ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ مالک بن دخشین یا ابن دخشن کہاں ہے؟ کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہے۔“ وہ شخص بولا: اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، بظاہر تو ہم اس کا رخ اور اس کی خیرخواہی منافقین کے حق میں دیکھتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر آگ کو حرام کر دیا ہے جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہہ دے بشرطیکہ اس سے اللہ کی رضامندی ہی مقصود ہو۔“ حضرت امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے، جو قبیلہ بنو سالم کے ایک فرد اور ان کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1186
فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ، إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ، إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَفْعَلُ، فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ، فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ، فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا أَرَاهُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ ذَاكَ أَلَا تَرَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَا نَرَى وُدَّهُ وَلَا حَدِيثَهُ إِلَّا إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ مَحْمُودُ: فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ , قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ، فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ.
محمود نے کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا جو بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، وہ کہتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا میرے (گھر) اور قوم کی مسجد کے بیچ میں ایک نالہ تھا، اور جب بارش ہوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے کہا کہ میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں اور ایک نالہ ہے جو میرے اور میری قوم کے درمیان پڑتا ہے، وہ بارش کے دنوں میں بہنے لگ جاتا ہے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر میرے گھر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگہ مقرر کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری یہ خواہش جلد ہی پوری کروں گا۔ پھر دوسرے ہی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر صبح تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر بیٹھے بھی نہیں بلکہ پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کس جگہ میرے لیے نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ میں جس جگہ کو نماز پڑھنے کے لیے پسند کر چکا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی اور ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سلام پھیرا۔ میں نے حلیم کھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا جو تیار ہو رہا تھا۔ محلہ والوں نے جو سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما ہیں تو لوگ جلدی جلدی جمع ہونے شروع ہو گئے اور گھر میں ایک خاصا مجمع ہو گیا۔ ان میں سے ایک شخص بولا۔ مالک کو کیا ہو گیا ہے! یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر دوسرا بولا وہ تو منافق ہے۔ اسے اللہ اور رسول سے محبت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا۔ ایسا مت کہو، دیکھتے نہیں کہ وہ «لا إله إلا الله» پڑھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ تب وہ کہنے لگا کہ (اصل حال) تو اللہ اور رسول کو معلوم ہے۔ لیکن واللہ! ہم تو ان کی بات چیت اور میل جول ظاہر میں منافقوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر اس آدمی پر دوزخ حرام کر دی ہے جس نے «لا إله إلا الله» اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کہہ لیا۔ محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے انکار کیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات کبھی بھی کہی ہو۔ آپ کی یہ گفتگو مجھ کو بہت ناگوار گزری اور میں نے اللہ تعالیٰ کی منت مانی کہ اگر میں اس جہاد سے سلامتی کے ساتھ لوٹا تو واپسی پر اس حدیث کے بارے میں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ضرور پوچھوں گا۔ اگر میں نے انہیں ان کی قوم کی مسجد میں زندہ پایا۔ آخر میں جہاد سے واپس ہوا۔ پہلے تو میں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا پھر جب مدینہ واپسی ہوئی تو میں قبیلہ بنو سالم میں آیا۔ عتبان رضی اللہ عنہ جو بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے، اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے ملے۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نے حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا اور بتلایا کہ میں فلاں ہوں۔ پھر میں نے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھ سے اس مرتبہ بھی اس طرح یہ حدیث بیان کی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1186]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قبیلہ بنو سالم میں اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میرے اور اس قبیلے کے درمیان ایک وادی حائل تھی۔ جب بارشیں ہوتیں تو اسے عبور کر کے ان کی مسجد تک پہنچنا میرے لیے دشوار ہو جاتا، اس لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور یہ وادی جو میرے اور میری قوم کے درمیان بہتی ہے جب بارشیں ہوں تو اسے عبور کرنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اسے (ہمیشہ کے لیے) جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عنقریب آؤں گا۔“ چنانچہ ایک دن جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ میں نے آپ کو اجازت دی تو آپ نے بیٹھنے سے پہلے فرمایا: ”آپ اپنے گھر کے کس حصے میں ہمارا نماز پڑھنا پسند کرتے ہیں؟“ میں نے آپ کے لیے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں پسند کرتا تھا کہ وہاں نماز ادا کی جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے صفیں درست کر لیں۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ہم نے بھی آپ کے سلام پھیرنے پر سلام پھیر دیا۔ پھر میں نے موٹے آٹے اور گوشت سے تیار کردہ کھانا پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ جب اہل محلہ کو پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہ پے درپے اکٹھے ہونا شروع ہو گئے حتی کہ بہت سے لوگ میرے گھر میں جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک (ابن دخشن) رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا؟ وہ ہمیں یہاں نظر نہیں آ رہا؟ ان میں سے ایک دوسرے شخص نے کہا: وہ منافق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں رکھتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو۔ کیا تم اسے نہیں دیکھتے ہو کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہے اور اس کا کلمہ پڑھنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہے۔“ اس شخص نے کہا: (ویسے تو) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں لیکن اللہ کی قسم! ہم تو اس کی دوستی اور کلام و سلام منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جہنم پر حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کلمہ طیبہ پڑھتا ہے۔“ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں سے بیان کی جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ واقعہ اس غزوے میں پیش آیا جس میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور رومی سرزمین (قسطنطنیہ) میں یزید بن معاویہ رحمہ اللہ امیر لشکر تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کا صاف انکار کر دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہرگز خیال نہیں کہ آپ نے ایسے کلمات فرمائے ہوں گے جو تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیے ہیں۔ مجھ پر ان کا انکار بہت گراں گزرا، اس لیے میں نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس غزوے سے واپسی تک مجھے صحیح سالم رکھا تو میں اس کے متعلق حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ضرور دریافت کروں گا بشرطیکہ میں انہیں اس قوم کی مسجد میں بقید حیات پاؤں، چنانچہ میں جب اس غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور وہاں سے روانہ ہوا۔ بالآخر جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو قبیلہ بنو سالم کا رخ کیا۔ میں نے وہاں حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نابینا ہو چکے ہیں اور اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے ہیں۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ پھر میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے واقعہ اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ بیان کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب (کبڑے) نے، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ خواب میں) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1237]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے میرے پاس ایک آنے والا آیا اور مجھے خوشخبری دی کہ میری اُمت میں سے جو شخص بایں حالت فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3435
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ"، قَالَ الْوَلِيدُ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ: مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَيَّهَا شَاءَ.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا (آخر) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ولید نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا (ایسا شخص) جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے (داخل ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3435]
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نیز وہ اللہ کا ایسا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام صدیقہ تک پہنچایا اور اس کی طرف سے روح ہیں، جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے، تو اس نے جو بھی عمل کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: ”ایسا شخص جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے گزرے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5401
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ،" أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ: سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ فَصَفَفْنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ، فَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ أَلَا تَرَاهُ، قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ وَكَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودٍ، فَصَدَّقَهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور قبیلہ انصار کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بصارت کمزور ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ برسات میں وادی جو میرے اور ان کے درمیان حائل ہے۔ بہنے لگتی ہے اور میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور ان میں نماز پڑھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے یا رسول اللہ! میری یہ خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور میرے گھر میں آپ نماز پڑھیں تاکہ میں اسی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ میں جلد ہی ایسا کروں گا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہو گیا تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے آپ کو اجازت دے دی۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو گئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے گھر میں کس جگہ تم پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور (نماز کے لیے) تکبیر کہی۔ ہم نے بھی (آپ کے پیچھے) صف بنا لی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ (حریرہ کی ایک قسم) کے لیے جو آپ کے لیے ہم نے بنایا تھا روک لیا۔ گھر میں قبیلہ کے بہت سے لوگ آ آ کر جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا مالک بن دخشن کہاں ہیں؟ اس پر کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ «لا إله إلا الله» یعنی اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ ان صحابی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) لیکن ہم ان کی توجہ اور ان کا لگاؤ منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ نے دوزخ کی آگ کو اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے ایک فرد اور ان کے سردار تھے۔ محمود کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 5401]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاری صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی تھی، انہوں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں، موسم برسات میں یہ نالا بہہ پڑتا ہے جو میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور انہیں نماز پڑھانا ممکن نہیں رہتا۔ اللہ کے رسول! میری انتہائی خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور وہاں نماز پڑھیں تو میں اس جگہ کو اپنے لیے ”جائے نماز“ قرار دے لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ جلد ہی ایسا کروں گا۔“ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دن چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تشریف لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے تو بیٹھے بغیر ہی آپ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ کو پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں؟“ میں نے گھر کے ایک کونے کی نشاندہی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر کہی۔ ہم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیر دیا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ پیش کرنے کے لیے روک لیا جو ہم نے خود تیار کیا تھا، گھر میں قبیلے کے بہت سے لوگ جمع ہو گئے، ان میں سے کسی نے کہا: ”مالک بن دخشن کہاں ہیں؟“ کسی نے کہا: ”وہ تو منافق ہے، اسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کیا ہے اور اس اقرار سے اس کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔“ (صحابی) نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، ہم نے تو اس لیے یہ بات کہی تھی کہ ہم اس کی توجہ اور اس کا لگاؤ منافقین کے ساتھ دیکھتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کرے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہو تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ ایسے شخص پر حرام کر دی ہے۔“ (راوئ حدیث) حضرت ابن شہاب کہتے ہیں: پھر میں نے قبیلہ بنو سالم کے ایک فرد، ان کے سردار حضرت حصین بن محمد انصاری رضی اللہ عنہ سے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 5401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5827
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ، وَهُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ"، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا، قَالَ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ قَبْلَهُ، إِذَا تَابَ وَنَدِمَ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غُفِرَ لَهُ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.») ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ (صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے (گناہوں سے) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 5827]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید لباس تھا جبکہ آپ اس وقت محو استراحت تھے، پھر دوبارہ خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہے اور اسی عقیدے پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ میں نے پھر عرض کیا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چاہے اس نے چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چاہے اس نے چوری کی ہو۔“ میں نے پھر عرض کیا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو ذر کی ناک خاک آلود ہونے کے باوجود، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اس نے چوری کی ہو۔“ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ جب حدیث بیان کرتے تو فرماتے: ”اگرچہ ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو جائے۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”یہ حکم اس وقت ہے جب موت کے وقت کہے یا اس سے قبل توبہ کرے اور شرمسار ہو جائے، پھر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہے تو اس کے پہلے کے تمام گناہ (معاف) کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 5827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6938
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ، فَقَالَ رَجُلٌ:" مِنَّا ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَقُولُوهُ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُ لَا يُوَافَى عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، کہا کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے پھر ایک صاحب نے پوچھا کہ مالک بن الدخشن کہاں ہیں؟ ہمارے قبیلہ کے ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم ایسا نہیں سمجھتے کہ وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کا مقصد اس سے اللہ کی رضا ہے۔ اس صحابی نے کہا کہ ہاں یہ تو ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جو بندہ بھی قیامت کے دن اس کلمہ کو لے کر آئے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 6938]
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صبح صبح تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا: ”مالک بن دخشن کہاں ہے؟“ ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”وہ منافق ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم یوں کیوں نہیں کہتے کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھتا ہے اور اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا جوئی ہے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جو بندہ بھی قیامت کے دن اس کلمے کو لے کر آئے گا اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 6938]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ الْمَعْرُورِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى، قَالَ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرے گا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا گو اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ فرمایا کہ گو اس نے چوری اور زنا کیا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7487]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور مجھے خوشخبری دی کہ جو شخص اس حالت میں فوت ہو جائے کہ وہ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اگرچہ وہ چوری زنا کا مرتکب ہو؟“ آپ نے فرمایا: ”گو وہ چوری زنا کا مرتکب ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7487]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة