🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ يُصِيبُ الْبَصَرَ وَيُذْهِبُ الْحَبَلَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دُم کٹے سانپ کو قتل کر دینے کا حکم دیا کیونکہ وہ اندھا کر دیتا ہے اور حمل ساقط کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3299
اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب (دونوں) نے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3299]
عبدالرزاق نے معمر سے روایت کرتے ہوئے بایں الفاظ اس حدیث کو بیان کیا کہ مجھے ابو لبابہ یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے دیکھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس، ابن عیینہ، اسحاق کلبی اور زبیدی نے بھی امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے، البتہ صالح، ابن ابی حفصہ رحمہ اللہ اور ابن مجمع نے امام زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح روایت کیا کہ مجھے ابو لبابہ اور زید بن خطاب رضی اللہ عنہما (دونوں) نے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں، انہیں مار ڈالا کرو، کیونکہ وہ اندھا بنا دیتے ہیں اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3308]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دھاری سانپ کو مار ڈالو کیونکہ وہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتا ہے۔ ابو اسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَفَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقْتُلُوا الْجِنَّانَ إِلَّا كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الْوَلَدَ وَيُذْهِبُ الْبَصَرَ فَاقْتُلُوهُ".
پھر میری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو، کیونکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3311]
لیکن اس کے بعد میں جب حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید سانپوں کو مت مارو، ان کے علاوہ ہر دم کٹا اور دو دھاری والا سانپ مار ڈالو کیونکہ وہ حمل گرا دیتا ہے اور بینائی کو ختم کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
فَحَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ عَنْهَا".
پھر ان سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3313]
انھیں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو وہ ان کے قتل کرنے سے رُک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4017
حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ , فَأَمْسَكَ عَنْهَا".
‏‏‏‏ لیکن جب ابولبابہ بشیر بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے، ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں نکلنے والے سانپ کے مارنے سے منع فرمایا تھا تو انہوں نے بھی اسے مارنا چھوڑ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4017]
حضرت ابولبابہ بدری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو وہ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) ان (کو مارنے) سے رک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں