🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت:
باب: سفر میں سواری پر نفل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1610
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ، حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں سواری پر) اپنی نفل نماز پڑھتے تھے آپ کی اونٹنی جس طرف بھی آپ کو لے کر رخ کر لیتی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1610]
عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نفلی نماز اپنی اونٹنی پر پڑھتے تھے خواہ اس کا رخ کسی طرف ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1610]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1611
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ".
ابوخالد احمر نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ چاہے آپ کو لے کر جس طرف بھی رخ کر لیتی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1611]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی سواری پر پڑھتے تھے، اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1612
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ".
یحییٰ بن سعید نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے ہوتے، اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا۔ کہا: اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» (سو جس طرف تم رخ کرو، وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1612]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے ہوتے اپنی سواری پر، جدھر بھی اس کا رخ ہوتا اور اس کے بارے میں یہ آیت اتری (تم جدھر بھی منہ کرو، اللہ کی ذات ادھر ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1613
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ، وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ.
ابن مبارک، ابن ابی زائدہ اور ابن نمیر نے اپنے والد کے حوالے سے، سب نے عبدالملک سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ان میں سے ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آیت تلاوت کی: «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» (تم جس طرف بھی رخ کرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔) اور کہا: یہ اسی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1613]
امام مسلم اپنے مختلف اساتذہ سے عبدالملک کی سند سے یہی روایت نقل کرتے ہیں اور ان میں ابن مبارک اور ابن ابی زائد کی روایت میں ہے کہ پھر ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پڑھا: ﴿فَاَ یْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْهُ اللّٰہُ﴾ اور کہا یہ اسی مسئلہ کے بارے میں اتری ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1613]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1614
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ ".
عمرو بن یحییٰ مازنی نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا جبکہ آپ نے خیبر کا رخ کیا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1614]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1615
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ، نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: خَشِيتُ الْفَجْرَ، فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُسْوَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ ".
ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمان، بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ پھر جب مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور وتر پڑھے، پھر میں ان سے جا ملا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں (رہ گئے) تھے؟ میں نے ان سے کہا: مجھے فجر ہو جانے کا اندیشہ ہوا، اس لیے میں نے اتر کر وتر پڑھے۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1615]
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا۔ پھر جب مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوا میں نے سواری سے اتر کر وتر پڑھے پھر میں ان سے جا ملا۔ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے پوچھا، تم کہاں رہے تھے گئے تھے؟ تو میں نے ان سے کہا، مجھے فجر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ اس لیے میں نے اتر کر وتر پڑھے تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا۔ کیا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ نہیں ہے؟ تو میں نے کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم۔ انہوں نے کہا، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1616
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ آپ کو لے کر جدھر کا بھی رخ کر لیتی۔ عبداللہ بن دینار نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1616]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اپنی سواری پر پڑھتے تھے۔ اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔ عبداللہ بن دینار کہتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1617
وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ".
ابن ہاد نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر ادا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1617]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر اپنی سواری پر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1617]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 700 ترقیم شاملہ: -- 1618
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ.
سالم بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھتے جدھر بھی آپ کا رخ ہو جاتا اور اسی پر وتر بھی پڑھتے، البتہ آپ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1618]
سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل اپنی سواری پر پڑھتے ان کا رخ جدھر بھی ہوتا اور وتر بھی اس پر پڑھتے، ہاں اتنی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض اس پر نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں