🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب:
باب: جمعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 845 ترقیم شاملہ: -- 1955
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ عُمَرُ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي، حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے (کہ اسی اثناء میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے ایک شخص داخل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی: (آنے کی) یہ کون سی گھڑی ہے؟ انہوں نے کہا: میں آج مصروف ہو گیا، گھر لوٹتے ہی میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا (اور حاضر ہو گیا ہوں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وہ بھی (صرف) وضو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1955]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے (کہ اسی اثنا میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص داخل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی: (آنے کی) یہ کون سی گھڑی ہے؟ انہوں نے کہا: میں آج مصروف ہو گیا، گھر لوٹتے ہی میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا (اور حاضر ہو گیا ہوں)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وہ بھی (صرف) وضو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 845 ترقیم شاملہ: -- 1956
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ "؟.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (ایک بار) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی دوران میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تعریف کی (اعتراض کیا) اور کہا: لوگوں کو کیا ہوا کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اذان سننے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ وضو کیا ہے اور حاضر ہو گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ بھی (صرف) وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: جب تم میں سے کوئی جمعے کے لیے آئے تو وہ غسل کرے؟ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1956]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثنا میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف تعریض کرتے ہوئے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ! میں نے اذان سننے کے بعد وضو سے زیادہ کام نہیں کیا پھر آ گیا ہوں۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (صرف) وضو ہی کیا ہے؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے؟ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں