صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2142
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: ”اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2142]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت کودیکھ کر ان کی زندگی سے مایوس ہوکر) ان پر رونے لگیں، تو انہوں نے کہا، اے میری بیٹی! رک جاؤ،کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس کے گھروالوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2143]
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں، اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2144
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2144]
یہ امام صاحب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں، اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب پہنچتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2145
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ابوصالح نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا وہ بے ہوش ہو گئے، تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی، جب ان کو افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: ”کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے؟‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2145]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کردیا گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے تو ان پر چیخ وچلا کر رویا گیا، جب انہیں ہوش آیا، تو انہوں نے کہا، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر اس کے خاندان یا زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2146
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ، جَعَلَ صُهَيْبٌ، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ابواسحاق شیبانی نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا: ہائے میرا بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”صہیب! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2146]
حضرت ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، ہائے میرے بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا، اے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2147
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ.
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟“ کہا: ”اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2147]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہوگئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے آئے حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم!ہاں،امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں عمر نے کہا: اللہ کی قسم! تمھیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب دیا ہوتا ہے۔راوی کا بیان ہے۔ یہ حدیث میں نے موسیٰ بن طلحہ کو سنائی، تو اس نے کہا،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں،اس سے مراد تو بس یہود تھے۔ (ان کوکفر کی بنا پر عذاب ہوتا ہے، جبکہ گھروالے رو رہے ہوتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2148
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ "، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: ”اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2148]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی کر دیے گئے تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان پر بآواز بلند رونے لگیں تو انہیں نے کہا اے حفصہ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر جس پر بآواز بلند رویا جائے اسے عذاب دیا ملتا ہے اور ان پر صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بآواز بلند رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: اے صہیب!کیا تمھیں علم نہیں، ”جس پربآواز بلند رویا جائے اسے عذاب دیا جا تا ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة