🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب جواز التمتع:
باب: حج تمتع کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2972
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ "،
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریری نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، (مطرف نے) کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمہیں نفع دے گا۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے (حج کے مہینوں میں عمرہ کو) منسوخ قرار دیا ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے۔ بعد میں ہر شخص نے جو رائے قائم کرنا چاہی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2972]
مطرف بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمران بن حصین رضی الله تعالیٰ عنہ نے کہا، میں تمہیں آج ایسی حدیث سناتا ہوں، جس سے تمہیں اللہ تعالیٰ آج کے بعد نفع پہنچائے گا، جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو عشرہ ذوالحجہ میں عمرہ کرنے کا حکم دیا، اور کسی آیت کے ذریعہ اس کو منسوخ قرار نہیں دیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اس کے بعد جو انسان چاہے اپنی رائے سے کوئی رائے قائم کر لے (اس کا اعتبار نہیں ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2973
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلَاهُمَا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ " ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ "، يَعْنِي عُمَرَ.
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن حاتم دونوں نے وکیع سے یہ حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں سفیان نے جریری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (البتہ) ابن حاتم نے اپنی روایت میں کہا: بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا نظریہ بنایا، ان کی مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2973]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان کے استاد ابن حاتم کی روایت میں یہ ہے، ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا رائے قائم کر لی، ان کا اشارہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تھا، (کیونکہ وہ حج تمتع سے روکتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2974
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ "،
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے گا۔ بلاشبہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو (حج کے مہینوں میں) اکٹھا کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی (بتایا) کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (بواسیر کی بناء پر) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے دغوانا چھوڑ دیا تو (فرشتوں کا سلام) دوبارہ شروع ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2974]
مطرف بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں، امید ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا، پھر اپنی وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ قرآن ہی میں اس کی حرمت نازل ہوئی، حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کہا جاتا تھا، حتی کہ میں نے (بیماری کی شدت کی بنا پر) داغ لگوایا تھا، تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے داغ لگوانا چھوڑ دیا، تو سلام دوبارہ شروع ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2975
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ.
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی، کہا میں نے مطرف سے سنا، انہوں نے کہا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2975]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے یں، صرف اس قدر فرق ہے کہ اوپر کی روایت میں عن مطرف ہے اور اس میں سمعت مطرفا ہے، یعنی سننے کی صراحت موجود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2976
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ، إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ، وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ".
قتادہ نے مطرف سے روایت کی، کہا: جس مرض میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، اس دوران انہوں نے مجھے بلا بھیجا اور کہا میں تمہیں چند احادیث بیان کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا، اگر میں (شفا یاب ہو کر) زندہ رہا تو ان باتوں کو میری طرف سے پوشیدہ رکھنا اگر فوت ہو گیا تو چاہو تو بیان کر دینا مجھ پر (فرشتوں کی جانب سے) سلام کہا جاتا تھا (تفصیل سابقہ حدیث میں ہے) اور یاد رکھو! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کر دیا، اس کے بعد نہ تو اس بارے میں اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور نہ (آخر تک) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2976]
مطرف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اپنی اس بیماری میں جس میں ان کی وفات ہوئی ہے، مجھے بلا بھیجا، اور کہا، میں تمہیں چند احادیث سنانا چاہتا ہوں، امید ہے، اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا، اگر میں زندہ رہا تو میرے بارے میں یہ نہ بتانا، اور اگر میں فوت ہو گیا، تو چاہو، تو بیان کر دینا، واقعہ یہ ہے کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کہا جاتا ہے، (زندگی میں یہی بات چھپانا مقصود ہے) جان لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، پھر اس کے بارے میں کتاب اللہ میں کچھ نہیں اترا (جس سے اس کی ممانعت ثابت ہو) اور نہ ہی اس سے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ ایک آدمی نے اس کے متعلق اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2977
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ".
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کیا تھا۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب (میں کوئی بات) نازل ہوئی۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا: پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2977]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں خوب جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، پھر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں اترا، اور نہ ہی ان سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے، ایک آدمی نے اس کے متعلق اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2978
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ "،
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان فرمائی: کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا (کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق) ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2978]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا اور اس کے بارے میں (ممانعت کے سلسلہ میں) قرآن نہیں اترا، ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2979
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: " تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ ".
محمد بن واسع نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج میں) تمتع (حج و عمرہ کو ایک ساتھ ادا) کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں حج و عمرہ اکٹھا ادا کیا، جو قربانیاں ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے انہی دنوں میں الگ الگ احرام باندھ کر دونوں کو ادا کیا) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2979]
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا، (ایک ہی سفر میں، حج اور عمرہ کیا، اکٹھا ہو یا الگ الگ)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2980
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ، وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ "،
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں عمران بن مسلم نے ابورجاء سے روایت کی، کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہوئی۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا، بعد ازیں نہ تو کوئی آیت نازل ہوئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2980]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں آیت المتعۃ یعنی حج تمتع کے بارے میں آیت اتری اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، پھر ایسی کوئی آیت نہیں اتری جو حج تمتع کی آیت کو منسوخ کر دے، اور نہ ہی اس سے اپنی وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2981
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَلَمْ يَقُلْ: " وَأَمَرَنَا بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمران قصیر سے حدیث سنائی (انہوں نے کہا:) ہمیں ابورجاء نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اسی سند (مذکورہ بالا روایت) کے مانند حدیث بیان کی۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ (حج میں تمتع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا (یحییٰ بن سعید نے) یہ نہیں کہا: آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2981]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کی جگہ یہ ہے ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں