🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب المساقاة والمعاملة بجزء من الثمر والزرع:
باب: مساقات اور پھل اور کھیتی پر معاملہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3962
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ، أَوْ زَرْعٍ ".
یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس کی پیداوار کے نصف پر معاملہ کیا جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3962]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے وہاں کی زمین سے حاصل ہونے والے پھلوں اور کھیتی کا نصف پر معاملہ کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3963
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ، أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ: ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ "، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ: الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ: الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ، فَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ.
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (کی زمین) اس پیداوار کے آدھے حصے پر دی جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی۔ آپ اپنی ازواج کو ہر سال ایک سو وسق دیتے، اسی (80) وسق کھجور کے اور بیس وسق جو کے۔ بعد ازاں جب خیبر کی تقسیم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری میں آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین اور پانی کا حصہ مقرر کر دیا جائے یا ان کو ہر سال (مقررہ) وسق مل جانے کی ضمانت دیں۔ تو ان کا (ان دونوں میں سے انتخاب کرنے میں) باہم اختلاف ہو گیا۔ ان میں سے کچھ نے زمین اور پانی کو منتخب کیا اور کچھ نے ہر سال (مقررہ) وسق لینے پسند کیے۔ حضرت حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو چنا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3963]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین، اس سے حاصل ہونے والے پھلوں اور پیداوار کے آدھے حصے پر دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ازواج مطہرات کو سو (100) وسق دیتے تھے، اَسی (80) وسق، کھجور اور بیس (20) وسق جَو، اور جب خیبر کی زمین کی تقسیم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد ہوئی، تو انہوں نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ وہ زمین اور پانی کا ایک حصہ لے لیں، یا وہ ان کے لیے ہر سال اوساق مہیا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے، تو ازواج میں اختلاف پیدا ہو گیا، ان میں سے بعض نے زمین اور پانی کو پسند کیا، اور بعض نے اپنے حصہ کے سالانہ وسق لینے کو پسند کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا ان میں سے تھیں، جنہوں نے زمین اور پانی کو اختیار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3963]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3964
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ، أَوْ ثَمَرٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ: مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَقَالَ: خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ.
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ وہاں کی کھیتی اور پھلوں کی پیداوار کے آدھے حصے پر معاملہ (کھیتی باڑی کے کام کاج کا معاہدہ) کیا۔۔۔ آگے علی بن مسہر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو انتخاب کیا۔ اور کہا: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین خاص کر دی جائے۔ اور انہوں نے پانی کا (بھی) ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3964]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے وہاں کی کھیتی اور پھلوں کے نصف حصہ پر معاملہ کیا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، لیکن حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ تعالی عنھن کے زمین اور پانی کو پسند کرنے کا ذکر نہیں کیا، اور یہ کہا کہ ازواج مطہرات کو زمین لینے کا اختیار دیا، پانی کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3965
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ، وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَابْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْسَ.
اسامہ بن زید لیثی نے مجھے نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس شرط پر وہیں دینے دیں کہ وہ لوگ وہاں سے حاصل ہونے والی پھلوں اور غلے کی پیداوار کے نصف حصے پر کام کریں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس شرط پر جب تک ہم چاہیں گے رہنے دیتا ہوں۔ پھر عبیداللہ سے روایت کردہ ابن نمیر اور ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ کیا: خیبر کی پیداوار کے نصف پھلوں کو (غنیمتوں کے) حصوں کے مطابق تقسیم کیا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3965]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح کر لیا گیا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں وہیں رہنے دیں، اور وہ اس شرط پر زمین پر کام کاج کریں گے، جو اس سے پھل اور غلہ حاصل ہو گا، آدھا ان کا ہو گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس شرط پر جب تک چاہیں گے تمہیں یہاں رہنے دیں گے۔ آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ خیبر کے نصف حصہ کو مسلمانوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کر لیا جاتا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ رکھ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3966
وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا، عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا ".
محمد بن عبدالرحمٰن نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے خیبر کے نخلستان اور زمینیں اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے سپرد کیں کہ وہ اپنے اموال لگا کر اس (کی زمینوں اور باغوں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی) کا کام کاج کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3966]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے نخلستان اور زمین اس شرط پر دے دی تھی کہ وہ اپنے مال (حیوانات، بیج وغیرہ) سے اس میں کام کریں گے اور اس کی آدھی پیداوار یا آمدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1551 ترقیم شاملہ: -- 3967
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ، وَأَرِيحَاءَ.
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہود اور نصاریٰ کو سرزمین حجاز سے جلا وطن کیا، اور یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر غلبہ حاصل کیا تو آپ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر غلبہ پا لینے کے بعد وہ زمین اللہ عزوجل، اس کے رسول اور مسلمانوں کی تھی۔ آپ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس شرط پر وہیں دینے دیں کہ وہ کام (باغوں اور کھیتوں کی نگہداشت اور کاشت) کی ذمہ داری لے لیں گے اور آدھا پھل (پیداوار) ان کا ہو گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تمہیں وہاں رہنے دیں گے۔ پھر وہ وہیں رہے حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3967]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما نے یہودیوں کو حجاز کی سرزمین سے جلا وطن کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر پر غلبہ پایا تو یہودیوں کو وہاں سے نکالنا چاہا، اور اس پر غلبہ کی بنا پر زمین، اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کی ملکیت میں آ گئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سے نکالنا چاہا، تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ انہیں اس میں اس شرط پر رہنے دیں کہ وہ ان کی جگہ اس میں کام کاج کریں گے، اور انہیں آدھا حصہ مل جائے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ہم تمہیں اس شرط پر جب تک ہماری مرضی ہو گی، رہنے دیں گے۔ تو وہاں رہنے لگے، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں تیماء اور اریحا کے علاقہ کی طرف جلا وطن کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1551
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں