🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب دِيَةِ الْجَنِينِ وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي:
باب: پیٹ کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1681 ترقیم شاملہ: -- 4389
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (قبیلہ) ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو (پتھر) مارا اور اس کے پیٹ کے بچے کا اسقاط کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام، مرد یا عورت (بطور تاوان) دینے کا فیصلہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4389]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری کو مارا، جس سے اس کے پیٹ کا بچہ مردہ پیدا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1681
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1681 ترقیم شاملہ: -- 4390
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان (جو قبیلہ ہذیل کی شاخ ہے) کی ایک عورت کے پیٹ کے بچے کے بارے میں، جو مردہ ضائع ہوا تھا، ایک غلام یا لونڈی دیے جانے کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت (بھی) فوت ہو گئی جس کے خلاف آپ نے غلام (بطور دیت دینے) کا فیصلہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت (جو بھی ہے) اس کے بیٹوں اور شوہر کے لیے ہے اور (اس کی طرف سے) دیت (کی ادائیگی) اس کے باپ کی طرف سے مرد رشتہ داروں پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4390]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کا تاوان جو مردہ پیدا ہوا تھا، ایک «غُرَّة» یعنی غلام یا لونڈی ٹھہرایا تھا، پھر وہ عورت جس کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «غُرَّة» کا حکم دیا تھا، فوت ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور اس کے خاوند کو ملے گی اور دیت اس کے عصبات ادا کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1681
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1681 ترقیم شاملہ: -- 4391
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بَنِ عَبَدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: " اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ "،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہذیل کی دو عورتیں باہم لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا اور اس بچے کو بھی جو اس کے پیٹ میں تھا، چنانچہ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت ایک غلام، مرد یا عورت ہے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس (قاتلہ) کے عاقلہ کے ذمے ہے اور اس کا وارث اس کے بیٹے اور ان کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو بنایا۔ اس پر حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کا تاوان کیسے دوں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ آواز نکالی، ایسا (خون) تو رائیگاں ہوتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ اس کی سجع (قافیہ دار کلام) کی وجہ سے، جو اس نے جوڑی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4391]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا جس سے وہ مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا تو ان کے ورثاء مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کا تاوان ایک «غُرَّة» غلام یا لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس قاتلہ کے خاندان پر پڑے گی اور اس قاتلہ کے وارث اس کی اولاد اور دوسرے موجود وارث ہیں (یعنی قاتلہ کا خاوند) تو حمل بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا تاوان میں کیسے ادا کروں، جس نے نہ کھایا، نہ پیا اور نہ بولا نہ چیخا؟ یعنی مردہ حالت میں پیدا ہوا، ایسے کا خون تو رائیگاں جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا ساتھی ہے۔ اس مسجع (قافیہ والی عبارت) بندی کی بنا پر جو اس نے کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1681
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1681 ترقیم شاملہ: -- 4392
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ " وَقَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ؟.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: دو عورتیں باہم لڑ پڑیں۔۔۔ اور پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ ذکر نہیں کیا: آپ نے اس کے بیٹے اور اس کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو اس کا وارث بنایا۔ اور کہا: اس پر ایک کہنے والے نے کہا: ہم کیسے دیت دیں؟ اور انہوں نے حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4392]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو عورتیں لڑ پڑیں، آگے مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا، لیکن امام صاحب کے اس استاد نے یہ بات بیان نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اولاد اور دوسرے ساتھ موجود وارثوں کو وارث قرار دیا اور یہ کہا ایک کہنے والے نے کہا: ہم دیت کیونکر ادا کریں؟ اور حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1681
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں