صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الحدود كفارات لاهلها:
باب: حد لگانے سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4461
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ "،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوادریس خولانی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (موجود) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات پر میرے ساتھ بیعت کرو کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، زنا نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے اور کسی زندہ (انسان) کو، جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ناحق قتل نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس نے اس (عہد) کو پورا کیا، اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے سزا مل گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے۔ جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اللہ نے (دنیا میں) اس کی پردہ داری کی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4461]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور زنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور اللہ تعالیٰ نے جس جان کو محترم ٹھہرایا ہے، اس کو ناحق قتل نہیں کرو گے، تو تم میں سے جو اس بیعت پر وفا کرے گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے اس پر سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی، اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اس پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے معاف کر دے اور چاہے اسے سزا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4462
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، فَتَلَا عَلَيْنَا آيَةَ النِّسَاءِ أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں (کے احکام) والی (سورۃ الممتحنہ کی) یہ آیت تلاوت کی: ”کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4462]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے زہری ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی بیعت پر یہ آیت ہمیں سنائی: ﴿أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4463
وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ، أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ".
ابواشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (اسی طرح) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے۔“ تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4463]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح عہد لیا، جس طرح عورتوں سے لیا تھا کہ: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی قرار نہ دیں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے پر بہتان اور الزام تراشی نہ کریں، تم میں سے جو اس عہد کا ایفا کرے گا اس کو اللہ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس کسی نے قابلِ حد گناہ کا ارتکاب کیا اور اس پر حد جاری کر دی گئی ہو تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس کے جرم پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4464
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَمِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا نَنْتَهِبَ وَلَا نَعْصِيَ، فَالْجَنَّةُ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ "، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: كَانَ قَضَاؤُهُ إِلَى اللَّهِ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے (عبدالرحمان) صنابحی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور کہا: ہم نے اس بات پر آپ کے ساتھ بیعت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، کسی زندہ (انسان) کو ناحق قتل نہ کریں گے جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ڈاکے نہ ڈالیں گے اور نافرمانی نہ کریں گے۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو جنت ہے اور اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا۔ ابن رمح نے اس کا فیصلہ کے بجائے ”اس شخص کا فیصلہ اللہ عزوجل کے سپرد ہو گا“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4464]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان نقباء میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، اور انہوں نے بتایا کہ ہم نے (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی تھی کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، زنا نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور جس شخص کو اللہ نے قتل کرنا حرام ٹھہرایا ہے، ہم اس کو ناحق قتل نہیں کریں گے، ہم ڈاکہ نہیں ڈالیں گے اور ہم نافرمانی کا کام نہیں کریں گے، ہم نے اگر اس کی پابندی کی تو جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا“، ابن رمح نے «قَضَاءُ ذٰلِكَ» ”اس کا فیصلہ“ کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ "،
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبادہ بن ولید سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے (ہمیشہ) حق بات کہیں گے اور اللہ کے (دین پر چلنے کے) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4768]
عبادہ بن ولید بن عبادہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں، خوشی اور ناخوشی میں اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سننے اور ماننے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی، کہ ہم اہل اقتدار کے ساتھ رسہ کشی نہیں کریں گے، (اقتدار چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے) اور ہم ہر حالت میں جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے دین کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4769
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عجلان، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4769]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4770
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی، ابن ادریس کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4770]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4771
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّة ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقُلْنَا حَدِّثْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ، سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا، " أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، قَالَ: إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ ".
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، وہ (اس وقت) بیمار تھے، ہم نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا، ہم نے آپ کے ساتھ بیعت کی، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ترجیح دیے جانے کی صورت میں، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے۔ کہا: ہاں، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے (کفر ہونے پر) تمہارے پاس (قرآن اور سنت سے) واضح آثار موجود ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4771]
حضرت جنادہ بن ابی امیہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھے، ہم نے عرض کیا: ہمیں آپ (اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے) کوئی ایسی حدیث سنائیں جو ہمارے لیے سود مند ہو اور آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ نے ہم سے جو عہد لیا، اس میں ہماری یہ بیعت تھی کہ ”ہم سنیں گے، مانیں گے، ہمیں پسند ہو یا ناپسند، ہمارے لیے مشکل ہو یا آسانی اور ہم پر ترجیح دی گئی ہو اور ہم اہل اقتدار سے چھیننا جھپٹی نہیں کریں گے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الا یہ کہ تم کھلا کھلا کفر دیکھو، جس کے بارے میں تمہارے پاس صریح دلیل ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة