🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب استحباب لعق الاصابع والقصعة ، واكل اللقمة الساقطة بعد مسح ما يصيبها من اذي ، وكراهة مسح اليد قبل لعقها لاحتمال كون بركة الطعام في ذٰلك الباقي و ان السنة الاكل بثلاث اصابع
باب: کھانے (کے بعد) انگلیاں چاٹنا مستحبب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5300
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ ".
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے اس کے کس حصے میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5300]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور پلیٹ کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے اس کے کس حصہ میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5301
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان (ثوری) رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا لے اور اس پر جو ناپسندیدہ چیز (تنکا، مٹی) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کر لے اور اسے کھا لے، اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے، اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5301]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس کو اٹھائے اور اس کو لگنے والی تکلیف دہ چیز (مٹی، ریت اور تنکے وغیرہ) دور کر کے اس کو کھالے اور جب تک اپنی چاٹ نہ لے، اپنا ہاتھ رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے، اس کے کھانے کے کس حصہ میں خیر و برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5302
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا وَمَا بَعْدَهُ.
ابوداود حفری اور عبدالرزاق دونوں نے سفیان (ثوری) رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے: اور اپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوائے اور اس کے بعد والے الفاظ بھی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5302]
یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں، ان کی حدیث میں بھی ہے وہ اپنا ہاتھ تولیے سے صاف نہ کرے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوائے اور اس کے بعد والا حصہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5303
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے، اسے صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور جب (کھانے سے) فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5303]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: شیطان تمہارے ہر معاملہ کے وقت آجاتا ہے، حتی کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی آ جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت کا باعث چیز زائل کرکے اس کو کھالے، اس کو شیطان کے لیے نہ پڑا رہنے دے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے علم نہیں ہے اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5304
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے آخر تک اور حدیث کا ابتدائی حصہ: شیطان تمہارے پاس حاضر ہوتا ہے ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5304]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اذا سقطت لقمة احدكم [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5305
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَان َ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
محمد بن فضیل نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (انگلیاں) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اور لقمے کا ذکر کیا، ان دونوں (جریر اور ابومعاویہ) کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5305]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوصالح اور ابوسفیان دونوں سے چاٹنے کا ذکر کرتے ہیں اور ابوسفیان سے لقمہ والا حصہ بیان کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر والے دونوں استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں