صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تحريم جر الثوب خيلاء وبيان حد ما يجوز إرخاؤه إليه وما يستحب:
باب: غرور سے (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی حرمت کے بیان میں اور اس کا بیان کہ کہاں تک کپڑا لٹکانا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5453
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كلهم يخبره، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ".
امام مالک نے نافع عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کی، ان سب نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5453]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان تکبر اور گھمنڈ سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت نہیں ڈالتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5454
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ كلهم، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُكِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثل حديث مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضافہ کیا: قیامت کے دن (نظر نہیں کرے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5454]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سات (7) سندوں سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے اس میں يوم القيامه، [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5455
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَنَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثِيَابَةُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عمر بن محمد نے اپنے والد سالم بن عبداللہ اور نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5455]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اترا کر اپنے کپڑے گھسیٹتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے محبت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5456
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، وَجَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
محارب بن دثار اور جبلہ بن سحیم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5456]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5457
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قال: سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سالم سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5457]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر کی بنا پر اپنا کپڑا گھسیٹا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر نظر نہیں ڈالے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5458
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ.
اسحق بن سلیمان نے کہا: ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سالم سے سنا، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے اسی کے مانند مگر انہوں نے (کپڑا گھسیٹا کے بجائے) (کپڑے گھسیٹے) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5458]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، آگے مذکورہ حدیث اس فرق کے ساتھ ہے کہ یہاں ثوب [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5459
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَقُولُ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
شعبہ نے کہا: میں نے مسلم بن یناق سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انہوں نے اس سے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے نسب بتایا وہ شخص بنو لیث سے تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو پہچان لیا اور کہا: میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے: ”جس شخص نے اپنی ازار (کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5459]
مسلم بن یناق، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو اپنی تہبند گھسیٹ رہا ہے تو پوچھا، تم کس خاندان سے ہو؟ اس نے اپنا نسب بیان کیا تو وہ بنو لیث کا آدمی نکلا اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے اسے پہچان لیا اور کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دونوں کانوں سے یہ فرمان سنا ہے، ”جس نے محض خود پسندی کی بنا پر، اپنی تہبند گھسیٹی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر نہیں ڈالے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5460
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ كُلُّهُمْ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ، وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ.
عبدالملک بن ابی سلیمان ابویونس اور ابراہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابویونس کی روایت میں ہے: ابوالحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے: (جس نے اپنی ازار گھسیٹی) انہوں نے (اپنا کپڑا) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5460]
امام صاحب تین اساتذہ کی تین سندوں سے مسلم بن یناق ہی سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، سب نے ”مَن جَرَّ إزاره“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2085 ترقیم شاملہ: -- 5461
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يقول: أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا: أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ شَيْئًا؟، قَالَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے نافع بن عبدالحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کریں کہا: اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا (انہوں نے سوال کیا:) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کوئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازار گھسیٹتا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5461]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، محمد بن عبادق بن جعفر کہتے ہیں، میں نے نافع بن عبدالحارث کے مولیٰ مسلم بن یسار کو حکم دیا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے دریافت کرے، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس انسان کے بارے میں کچھ سنا ہے، جو اترا کر اپنی تہبند گھسیٹتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة