🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2127 ترقیم شاملہ: -- 5578
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی، انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے، جس سال انہوں نے حج کیا، سنا، وہ منبر پر تھے، انہوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی (جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں) اور کہہ رہے تھے: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ ان (لٹوں وغیرہ) سے منع فرماتے تھے اور فرما رہے تھے: جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک ہو گئیں۔ (جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش و تنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5578]
حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ جس سال حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، منبر پر بالوں کا ایک گچھا پکڑ کر، جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھا، میں نے ان سے یہ کہتے سنا، اے اہل مدینہ، تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کے کام سے روکتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل بس اس وقت ہلاک ہوئے، جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کاموں کو اپنا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5578]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2127 ترقیم شاملہ: -- 5579
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور معمر، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں: (بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کر دیا گیا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5579]
امام صاحب بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ حدیث تین اساتذہ نے اپنی اپنی سند، زہیری ہی کی سند سے سنائی، معمر کی حدیث میں یہ ہے، بنو اسرائیل کو عذاب اس لیے دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5579]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2127 ترقیم شاملہ: -- 5580
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قال: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ ".
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینے آئے، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھہ نکال کر فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ (فریب کاری) کا نام دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5580]
امام سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ تشریف لائے تو ہمیں خطاب فرمایا اور بالوں کا ایک گچھا پکڑ کر دکھایا اور کہا، میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے سوا کوئی اور بھی یہ حرکت کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جھوٹ کا نام دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5580]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2127 ترقیم شاملہ: -- 5581
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال: ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ "، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ.
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی (لیر) تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سنو! یہ جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد وہ دھجیاں (لیریں) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5581]
حضرت سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، تم نے بری ہئیت و شکل ایجاد کر لی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے اور ایک آدمی لاٹھی لے کر آیا، جس کے سرے پر ایک چیتھڑا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، خبردار، یہی جھوٹ ہے، قتادہ کہتے ہیں، یعنی جن چیتھڑوں سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں