🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما بين النفختين:
باب: صور کے دونوں پھونک میں کتنا فاصلہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2955 ترقیم شاملہ: -- 7414
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ "، قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، قَالَ: وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔ انہوں (لوگوں) نے کہا: ابوہریرہ! چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: منع کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ انہوں نے کہا: اور انسان کا کوئی حصہ نہیں، مگر وہ بوسیدہ ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔ انہوں نے (لوگوں نے) کہا: اے ابوہریرہ! کیا چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ انہوں نے (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اور انسان کا کوئی حصہ نہیں مگر وہ بوحضرت ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7414]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2955 ترقیم شاملہ: -- 7415
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دمچی کی ہڈی کے آخری سرے کے سوا پورے ابن آدم (کے جسم) کو مٹی کھا لے گی۔ اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اسی (آخری سرے) سے پھر (اسے جوڑ کر) اکٹھا کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7415]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے ہر حصے کو مٹی کھا جاتی ہے، مگر دمچی کی ہڈی، اس سے انسان پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے جوڑا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7415]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2955 ترقیم شاملہ: -- 7416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا، فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالُوا: أَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَجْبُ الذَّنَبِ ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک یہ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جسم میں ایک ہڈی ہے جس کو مٹی کبھی نہ کھا سکے گی، اسی میں (سے) قیامت کے دن اس کو پورا بنایا جائے گا۔ انہوں (لوگوں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون سی ہڈی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دم کی ہڈی کا آخری سرا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7416]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان میں ایک ہڈی ہے، اس کو زمین کبھی بھی نہیں کھا سکے گی، اس سے قیامت کے دن (انسان کو) جوڑا جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سی ہڈی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دمچی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7416]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں