🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في وقت الإحرام
باب: احرام کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1773
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1773]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت ادا فرمائی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور یہیں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ پھر جب آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 24 (1546)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (690)، سنن النسائی/الصلاة 11 (378، 470)، سنن الترمذی/الصلاة 274 (546)، (تحفة الأشراف: 1573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/237، 378) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1546) صحيح مسلم (690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1752]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ مقام پر پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کی اونٹنی طلب کی اور اس کے کوہان کی دائیں جانب چیر لگایا اور اس کا خون وہیں چپڑ دیا اور اسی کے گلے میں دو جوتوں کا ہار بھی ڈال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء میدان کے قریب پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجج 32 (1243)، سنن الترمذی/الحج 67 (906)، سنن النسائی/الحج 64 (2776)، 67 (2784)، 70 (2793)، سنن ابن ماجہ/المناسک 96 (3097)، (تحفة الأشراف: 6459)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 23 (1549)، مسند احمد (1/216، 254، 280، 339، 344، 347، 373)، سنن الدارمی/المناسک 68 (1953) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اسے اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔
۲؎: اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو درست نہیں ، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1243)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، أَنَّهُمَا قَالَا:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الُحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1754]
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان (بن حکم) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 106(1694)، والمغازي 36 (4157، 4158)، سنن النسائی/الحج 62 (2773)، (تحفة الأشراف: 11250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 323، 327، 328، 331) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانور کو بھی ہدی کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (2772)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1757]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹ کے ہار کی رسیاں اپنے ہاتھوں سے بٹیں، پھر آپ نے ان کا «إِشْعَارٌ» کیا اور ان کے گلے میں «قِلَادَةٌ» ڈالا، پھر اسے بیت اللہ کی جانب روانہ کر دیا اور خود مدینہ میں مقیم رہے تو جو چیزیں آپ کے لیے حلال تھیں (اسی طرح حلال ہی رہیں) کچھ بھی حرام نہ ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 106 (1696)، 107(1698)، 108 (1699)، 109 (1700)، 110 (1701)، والوکالة 14 (2317)، والأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 62 (2774)، 68 (2785)، سنن ابن ماجہ/المناسک 94 (3094)، 96 (3098)، وانظر أیضا حدیث رقم: (1755)، (تحفة الأشراف: 17433)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 69 (908)، موطا امام مالک/الحج 15(51)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 191، 200) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا رسی وغیرہ لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان جانوروں کو اللہ کے گھر کے لئے خاص جان کر ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لئے بھی ہدی بھیجنا درست ہے اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے، اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ بھی مثل محرم کے ہو گا اس کے لئے بھی ان تمام چیزوں سے اس وقت تک بچنا ضروری ہو گا جب تک کہ ہدی قربان نہ کردی جائے، لیکن صحیح جمہور کا مذہب ہی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1699) صحيح مسلم (1321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1771]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ اس میدان بیداء کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غلط کہتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مسجد ہی کے پاس تلبیہ پکارنا شروع کر دیا تھا یعنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 2 (1515)، 20 (1541)، والجھاد 53 (2865)، صحیح مسلم/الحج 3، 4 (1186)، سنن الترمذی/الحج 8 (818)، سنن النسائی/الحج 56 (2758)، وانظر أیضا ما بعدہ، (تحفة الأشراف: 7020)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 14 (2916)، موطا امام مالک/الحج 9 (30)، مسند احمد (2/10، 17، 18، 29، 36، 37، 66، 154)، سنن الدارمی/المناسک 82 (1970) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1541) صحيح مسلم (1186)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1774
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1774]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب میدانِ بیداء کے ریتلے ٹیلے کی بلندی پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الحج 25 (2663)، 56 (2756)، 143 (2934)، (تحفة الأشراف: 524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/207)، سنن الدارمی/الحج 12 (1848) (صحیح لغیرہ)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کے روای حسن بصری ہیں جو مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کی اصل سابقہ حدیث نمبر: (1773) ہے، اس سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2663)
الحسن البصري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1996
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِعْرَانَةِ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّى لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ".
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1996]
سیدنا محرش کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تشریف لائے، پھر مسجد میں آئے اور جو اللہ نے چاہا نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر درست ہو کر بیٹھ گئے اور دامنِ وادیِ سرف کا رخ کر لیا، حتیٰ کہ مدینہ کی راہ پر جا ملے اور مکہ میں صبح کی، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات ہی سے یہیں تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 92 (935)، سنن النسائی/الحج 104 (2866، 2867)، (تحفة الأشراف: 11220)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 427، 4/69، 5/380) سنن الدارمی/المناسک 41 (1903) (صحیح) دون رکوعہ في المسجد، فإنہ منکر» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ركوعه في المسجد فإنه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (935 وسنده صحيح) مزاحم بن أبي مزاحم وثقه ابن حبان والذهبي في الكاشف والترمذي بتحسين حديثه فھو حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں